اصحاب احمد (جلد 2) — Page 696
696 اور میرے ظاہری الفاظ صرف اس غرض سے تھے کہ تا میں لوگوں پر یہ ثبوت پیش کروں کہ آں محبت اپنے دلی خلوص کی وجہ سے نہایت استقامت پر ہیں۔سوالحمد للہ کہ میں نے آپ کو ایسا ہی پایا میں آپ سے ایسی محبت رکھتا ہوں جیسا کہ اپنے فرزند عزیز سے محبت ہوتی ہے اور دعا کرتا ہوں کہ اس جہاں کے بعد بھی خدا تعالیٰ ہمیں دار السلام میں آپ کی ملاقات کی خوشی دکھاوے۔“ ۵۲۲ ذیل میں خاکسار براہین احمدیہ کے تعلق میں بعض باتیں سلسلہ کی تاریخ کی خاطر درج کر دیتا ہے جواس وقت تک سلسلہ کے لٹریچر میں نہیں آئیں اور بالکل نئی ہیں۔اور کتاب ہذا ( ایڈیشن اول) کے صفحہ ۳۷ تا ۳۹ سے متعلق ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام براہین احمدیہ صفحہ ب وج میں تحریر فرماتے ہیں: پست ہمت مسلمانوں کو لازم ہے کہ جیتے ہی مر جائیں۔اگر محبت خدا اور رسول کی نہیں تو اسلام کا دعویٰ کیوں کرتے ہیں؟ کیا خباثت کے کاموں میں اور نفس امارہ کی پیروی میں اور ناک بڑھانے کی نیت سے بے اندازہ مال ضائع کرنا اور اللہ اور رسول کی محبت میں اور ہمدردی کی راہ میں ایک دانہ ہاتھ سے نہ چھوڑ نا یہی اسلام ہے؟ نہیں یہ ہرگز اسلام نہیں یہ ایک باطنی جذام ہے۔یہی ادبار ہے کہ مسلمانوں پر عائد ہورہا ہے۔اکثر مسلمان امیروں نے مذہب کو ایک ایسی چیز سمجھ رکھا ہے کہ جس کی ہمدردی غریبوں پر ہی لازم ہے اور دولت مند اس سے مستثنیٰ ہیں جنہیں اس بوجھ کو ہاتھ لگانا بھی منع ہے۔اس عاجز کو اس تجربہ کا اس کتاب کے چھپنے کے اثناء میں خوب موقعہ ملا کہ حالانکہ بخوبی مشتہر کیا گیا تھا کہ اب یہ بباعث بڑھ جانے ضخامت کے اصل قیمت کتاب کی سو روپیہ ہی مناسب ہے کہ ذی مقدرت لوگ اس کی رعایت رکھیں کیونکہ غریبوں کو تو یہ صرف دس روپیہ میں دی جاتی ہے سو جبر نقصان کا واجبات سے ہے مگر بجز سات آٹھ آدمی کے سب غریبوں میں داخل ہو گئے۔خوب جبر کیا۔ہم نے جب کسی منی آرڈر کی تفتیش کی کہ یہ پانچ روپیہ بوجہ قیمت کتاب کس کے آئے ہیں یا یہ دس روپیہ کتاب کے مول میں کس نے بھیجے ہیں تو اکثر یہی معلوم ہوا کہ فلاں نواب صاحب نے یا فلاں رئیس اعظم نے۔ہاں نواب اقبال الدولہ صاحب حیدرآباد نے اور ایک اور رئیس نے ضلع بلند شہر سے جس نے اپنا نام ظاہر کرنے سے منع کیا ہے ایک نسخہ کی