اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 693 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 693

693 مرضیات کی توفیق بخشے آمین ثم آمین۔والسلام خاکسار غلام احمد از دہلی کو بھی نواب لوہار و ۲۴ /اکتوبر ۶۵ ۳۰- ۴ را پریل ۱۹۰۶ء کو تحریر فرماتے ہیں: ۵۱۴۶ الحمد للہ تادم تحریر خط ملا۔ہر طرح سے خیریت ہے۔خدا تعالیٰ آپ کو معہ اہل و عیال سلامت قادیان میں لا دے۔آمین۔“ ۳۱۔اسی طرح حضور تحریر فرماتے ہیں: ۵۱۵ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔چونکہ آپ کے ترددات اور غم اور ہم انتہاء تک پہنچ گیا ہے اس لئے بموجب مثل مشہور کہ ہر کمالے را ز والے۔امید کی جاتی ہے کہ اب کوئی صورت مخلصی کی اللہ تعالیٰ پیدا کرے دے گا اور اگر وہ دعا جو گویا موت کا حکم رکھتی ہے اپنے اختیار میں ہوتی تو میں اپنے پر آپ کی راحت کے لئے سخت تکالیف اٹھا لیتا۔لیکن افسوس کہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے ایسی دعا خدا تعالیٰ نے کسی کے ہاتھ میں (نہیں) رکھی۔بلکہ جبکہ وقت آجاتا ہے تو آسمان سے وہ حالت دل پر اترتی ہے۔میں کوشش میں ہوں اور دعا میں ہوں کہ وہ حالت آپ کے لئے پیدا ہوا اور امید رکھتا ہوں که کسی وقت وہ حالت پیدا ہو جائے گی اور میں (نے ) آپ کی سبکدوشی کے لئے کئی دعائیں کی ہیں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ خالی نہ جائیں گی۔جس قدر آپ کے لئے حصہ تکالیف اور تلخیوں کا مقدر ہے اس کا چکھنا ضروری ہے۔بعد اس کے یکدفعہ آپ دیکھیں گے کہ نہ وہ مشکلات ہیں اور نہ وہ دل کی حالت ہے۔“ ۳۲ حضور ۲۰ دسمبر ۱۹۰۶ء کو تحریر فرماتے ہیں: ۵۱۶ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔خاکسار باعث کثرت پیشاب اور دوران سر اور دوسرے عوارض کے خط لکھنے سے قاصر رہا۔ضعف بہت ہو رہا ہے یہاں تک کہ بجز دو وقت یعنی ظہر اور عصر کے گھر میں نماز پڑھتا ہوں۔آپ کے خط میں جس قدر ترددات کا تذکرہ تھا پڑھ کر اور بھی دعا کے لئے جوش پیدا ہوا۔میں نے یہ التزام کر رکھا ہے کہ پنج وقت نماز میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اور میں یقین دل سے جانتا ہوں کہ یہ دعائیں بریکار نہیں جائیں گی۔“ ۵۱۷