اصحاب احمد (جلد 2) — Page 22
22 22 انگریزی گورنمنٹ حضور نے ایک لمبا مضمون براہین احمدیہ حصہ چہارم کے شروع میں تحریر فرمایا۔اس کا ایک مختصر حصہ حالات کا پوری طرح علم دینے کی خاطر ہم ذیل میں درج کر دیتے ہیں۔حضور فرماتے ہیں: پست ہمت مسلمانوں کو لازم ہے کہ جیتے ہی مر جائیں۔اگر محبت خدا اور رسول کی نہیں تو اسلام کا دعویٰ کیوں کرتے ہیں؟ کیا خباثت کے کاموں میں اور نفس امارہ کی پیروی میں اور ناک کے بڑھانے کی نیت سے بے اندازہ مال ضائع کرنا اور اللہ اور رسول کی محبت میں اور ہمدردی کی راہ میں ایک دانہ ہاتھ سے نہ چھوڑ نا بھی اسلام ہے؟ نہیں یہ ہرگز اسلام نہیں یہ ایک باطنی جذام ہے۔یہی ادبار ہے کہ مسلمانوں پر عاید ہورہا ہے۔اکثر مسلمان امیروں نے مذہب کو ایک ایسی چیز سمجھ رکھا ہے کہ جسکی ہمدردی غریبوں پر ہی لازم ہے اور دولتمند اس سے مستفے ہیں۔جنہیں اس بوجھ کو ہاتھ لگانا بھی منع ہے۔اس عاجز کو اس تجربہ کا اس کتاب کے چھپنے کے اثناء میں خوب موقعہ ملا کہ حالانکہ بخوبی مشتہر کیا گیا تھا کہ اب بباعث بڑھ جانے ضخامت کے اصل قیمت کتاب کی سور و پیہ ہی مناسب ہے کہ ذی مقدرت لوگ اس کی رعایت رکھیں۔کیونکہ غریبوں کو یہ صرف دس روپیہ میں دی جاتی ہے۔سو جبر نقصان کا واجبات سے ہے۔مگر بجز سات آٹھ آدمی کے سب غریبوں میں داخل ہو گئے۔خوب جبر کیا۔ہم نے جب کسی منی آرڈر کی تفتیش کی کہ یہ پانچ روپیہ بوجہ قیمت کتاب کس کے آئے ہیں یا یہ دس روپیہ کتاب کے مول میں کس نے بھیجے ہیں تو اکثر یہی معلوم ہوا کہ فلاں نواب صاحب نے یا فلاں رئیس اعظم نے ہاں نواب اقبال الدولہ صاحب حیدرآباد ( ان کے حالات آخر کتاب میں درج ہونگے۔مؤلف ) نے اور ایک اور رئیس نے ضلع بلند شہر سے جس نے اپنا نام ظاہر کرنے سے منع کیا ہے۔ایک نسخہ کی قیمت میں سوسور و پیہ بھیجا ہے اور ایک عہدہ دار محمد افضل خاں نام نے ایک سو دس اور نواب صاحب کوٹلہ مالیر نے تین نسخہ کی قیمت میں سور و پیہ بھیجا اور سردار عطر سنگھ صاحب رئیس اعظم لدھیانہ نے جو کہ ایک ہند ورئیس ہیں یا اپنی عالی ہمتی اور مکرم عرفانی صاحب بیان کرتے ہیں کہ سردار عطر سنگھ صاحب رئیس بھروڑ ضلع لدہیا نہ تھے انہوں نے ایک لائبریری فائدہ عام کیلئے لد ہیا نہ میں قائم کی ہوئی تھی۔اس لائبریری کے لائبریرین مولوی عمر دین صاحب رضی اللہ عنہ احمدی تھے۔ان کا معمول تھا کہ جو لوگ مطالعہ کیلئے آتے انہیں براہین احمدیہ اور سرمہ چشم آریہ کی تعریف کر کے پڑھنے کی تحریک کرتے۔خاکسار عرفانی جو ان ایام میں طالب علم تھا عموماً دو تین مرتبہ ہفتہ میں ان کے پاس جا تا تھاوہ منشی عمر الدین کے نام سے مشہور تھے۔مگر بڑے ذی علم اور مرتاض احمدی تھے۔ابتداء حضرت منشی احمد جان رضی اللہ عنہ کے مرید تھے پھر ان کی عام ہدایت کے ماتحت احمدی ہو گئے۔بڑے مخلص اور عملی احمدی تھے " اللهم نور مرقده و اوسع مضجعه منشی عمر الدین صاحب کے متعلق مختصر بیان مکرم عرفانی صاحب کی طرف سے حیات احمد جلد دوم نمبر اول ۵۵ پر بھی موجود ہے۔اگر سردار صاحب کے کچھ مزید حالات مل سکے تو آخر کتاب میں درج کر دیئے جائیں گے۔*