اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 632 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 632

632 یکسر بے نیاز ، آستانہ احمد پر مجسم انکسار، ربانی انعامات سے ہمہ تن با برگ و بار، اس موعوده بارش لایدری اوله خیر ام آخرہ کا روشن اور پاکیزہ قطرہ ، حجتہ اللہ، ہمارے قلوب پر خدا داد، مخلصانہ عقیدتمندی کے دائمی اثرات اور حزیں دلوں پر محبت کے پُر سوز نقوش چھوڑ کر بہ ظاہر ہمیشہ کے لئے جدا ہو گیا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔لیکن ہم اپنے خدا کی رضا پر راضی اور اس کے ہاتھ کی ہر حرکت پر مطمئن ہیں۔یہ جدائی در حقیقت تمہید ہے اس دائگی ملاپ کے لئے جس کا انتظار اور امید ہر اُس خوش بخت نفس کو حاصل ہے جس نے ابدی حیات کے الہی پیغام کو خدا کے فرستادہ نبی زمان کی مبارک زبان پر جاری سُنا اور اس پر قبولیت کا سر جھکا دیا۔”اے خدا ! تو اپنے اس عزیز مہمان کو اپنی منزل کریم میں قرب کا انتہائی مقام بخش۔اس کے اعزاز اور درجات میں ہر گھڑی ترقی بخش۔اور اس کے پس گذاشتہ کو صبر رضا جو عطا فرما۔اور سیدہ محترمہ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبه أَرضَا هَا اللَّهُ بِرَضَائِہ کی وساطت سے انکو خاندانِ نبوت سے سرشت کی جو سعادت حاصل ہے اس سعادت کا ہمیشہ انہیں متحمل بنا۔آمین ! مجھے خدام الاحمدیہ ، سلسلہ کے تمام نوجوانوں کی طرف سے سیدہ محترمہ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ، سید نا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز ، حضرت اُم المؤمنین بارک الله في صحتها وعمرها ، بیگم صدر محترم سیده منصوره بیگم صاحبہ، صدر محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب، مکرم خان محمد عبداللہ خاں صاحب د محترم خان محمد احمد خاں صاحب اور دیگر اہل تعلق کی خدمت میں عقیدتمندانہ دلوں کے دردمندانہ احساسات کو عرض کرنا اور اس المناک سانحہ پر انتہائی افسوس کا اظہار کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نور اور سعادت کے اس بابرکت سرمایہ کو جو حضرت نواب صاحب رضی اللہ عنہ نے خدا کے فرستادہ سے حاصل کیا ان کی اولا داور نسل بعید تک جاری فرمائے۔آمین۔“ نوائے پاکستان میں ذکر خیر مشہور صحافی محترم مولانا عبدالمجید صاحب سالک مدیر روزنامہ انقلاب لا ہور رقمطراز ہیں : نواب محمد علی خاں رئیس مالیر کوٹلہ جو نواب ذوالفقار علی خاں کے برادر بزرگ اور ہمارے بھائی نواب زادہ خورشید علی خاں کے تایا تھے ۱۹۴۵ء کے اوائل میں ہی فوت ہو گئے۔یہ عقائد کے اعتبار سے احمدی تھے اور مدت دراز سے قادیان میں ہی سکونت رکھتے تھے۔انتقال سے کسی قدر پہلے لاہور تشریف لائے۔مجھ سے اور مہر صاحب سے اکثر مسائل پر تبادلہ خیالات کرتے اور بے حد شفقت سے پیش آتے۔ایسے باوضع اور روشن