اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 630 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 630

630 حضرت نواب صاحب رضی اللہ عنہ کی ولادت یکم جنوری ۱۸۷۰ ء کی تھی اور رحلت ۱۰ فروری ۱۹۴۵ء کو فرمائی گویا آپ نے ۷۵ سال ایک ماہ اور دس دن عمر پائی اور اس پاکبازی اور تقولی شعاری کے ساتھ اس عمر کا ہرلمحہ گزارا کہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام نے آپ کے متعلق نہایت ہی تعریفی کلمات استعمال فرمائے جو قیامت تک قائم رہیں گے اور نہ صرف آپ کے متعلق بلکہ آپ کے والد ماجد کے متعلق یہاں تک رقم فرمایا کہ مجھے ایسے شخص کی خوش قسمتی پر رشک ہے جس کا ایسا صالح بیٹا ہو کہ باوجود بہم پہنچنے تمام اسباب اور وسائل غفلت اور عیاشی کے اپنے عنفوان جوانی میں ایسا پر ہیز گار ہو۔یہی نہیں بلکہ خود خدا تعالیٰ نے آپ کو ایک بہت بڑے لقب سے نوازا اور اپنے مسیح کی پاک زبان مبارک سے آپ کو بشارت سنائی کہ ایک کشف میں آپ کی تصویر ہمارے سامنے آئی اور اتنا لفظ الہام ہوا’ حُجَّةُ الله اور اس کی تفہیم یہ بیان فرمائی کہ چونکہ آپ اپنی برادری اور قوم میں سے اور سوسائٹی میں سے الگ ہو کر آئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام حجۃ اللہ رکھا یعنی آپ ان پر حجت ہونگے۔قیامت کے دن ان کو کہا جائے گا کہ فلاں شخص نے تم سے نکل کر اس صداقت کو پر کھا اور ما نا تم نے کیوں ایسانہ کیا؟ یہ بھی تم میں سے ہی اور تمہاری طرح کا ہی انسان تھا۔چونکہ خدا تعالیٰ نے آپ کا نام حجتہ اللہ رکھا آپ کو بھی چاہیئے کہ آپ ان لوگوں پر تحریر سے تقریر سے ہر طرح سے حجت پوری کر دیں۔جس انسان کی خدا تعالیٰ کے حضور اور خدا کے پیارے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نگاہ میں ۴۳۴ 66 یہ قدر و منزلت ہو اس کی کوئی عام انسان کیونکر اصل شان بیان کر سکتا ہے۔“ حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے آپ کو وہ مرتبہ اور شان عطا کی جو کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتی آپ کی نیکی ، اخلاص، تقویٰ ، طہارت اور پاکبازی کو خدا تعالیٰ نے ایسے انعامات سے نوازا جو قیامت تک کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں بڑے بڑے رؤسا۔نواب۔والیان ریاست اور ملکوں کے بادشاہ داخل ہونگے اور یقیناً داخل ہونگے مگر کسی کو وہ رتبہ کہاں حاصل ہوسکتا ہے جو حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کو ہوا۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں رہنے کا سالہا سال تک شرف حاصل کیا اور آپ کے مقرب بنے آپ نے دین کی خاطر اپنے اموال بے دریغ صرف کئے آپ کو خدا تعالیٰ نے حجتہ اللہ کا خطاب بخشا اور آپ نے اپنے عملی نمونہ سے اپنے آپ کو اس خطاب کا پورا پورا اہل ثابت کیا آپ کی تعریف و توصیف جن الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی