اصحاب احمد (جلد 2) — Page 603
۲۱؍ دسمبر ۱۹۰۲ء نماز تہجد نماز صبح قرآن شریف نماز عصر 603 ۶:۳۰ ۶:۴۵ // ۶:۳۰ ۷:۳۰ ۶:۴۵ ۳:۳۰ ۲۲ / دسمبر ۱۹۰۲ء ہاں سُنا ہے کہ آج الہام ہوا ہے۔چونکہ وہاں مسجد ( میں میں ) موجود نہ تھا اس لئے میں نے حضرت کے منہ سے نہیں سنا۔الہام یہ ہے: يَا تِیک زمن گزمن موسی ۲۳ دسمبر ۱۹۰۲ء ہاں آج حضور علیہ السلام نے الہام سُنایا کہ ان کریم تمشی امامک فرمایا یہ کل کے الہام کا ٹکڑہ معلوم ہوتا ہے ) کیونکہ حضرت موسیٰ کے لئے بھی تو ریت میں ایسا آیا ہے۔* نواب صاحب نے یہ الہام کسی سے سُن کر درج کیا ہے شاید اسی لئے صحیح اندراج نہیں۔اصل یہ ہے يَاتِي عَلَيْكَ زَمَنٌ كَمِثْلِ زَمَنِ مُوسى - * ۲۳ / دسمبر ۱۹۰۲ ء کے متعلق الحکم میں مرقوم ہے: ظہر کی نماز سے پہلے حضرت حجتہ اللہ نے اپنا رات کا الہام سنایا إِنَّهُ كَرِيمٌ تَمُشْيَ اَمَامَكَ وَعَادَى لَكَ مَنْ عادى یعنی وہ (اللہ ) کریم ہے وہ تیرے آگے آگے چلا ہے اور جو تیرا دشمن ہے وہ اس کا دشمن ہے۔فرمایا میں قرائن سے سمجھتا ہوں کہ یہ الہام اسی پچھلے الہام يَاتِي عَلَيْكَ زَمَنْ كَمِثْلِ زَمَنِ مُوسیٰ سے ملتا ہے۔یہ الہام جیسا کہ توریت سے پایا جاتا ہے کہ خدا بنی اسرائیل کے آگے آگے چلتا تھا اس سے ملتا ہے۔میں نے اس کو موسیٰ اور عادی کے قافیہ سے پہچانا ہے کہ ان کا باہم تعلق ہے۔“ ۴۲۰