اصحاب احمد (جلد 2) — Page 563
563 ۱۳ / جنوری ۱۹۰۲ سیر میں مولوی محمد احسن صاحب نے ایک مدراس کے مولوی صاحب کا خط پڑھ کر سنایا۔پھر ہم سیر سے آئے۔۱۶ جنوری ۱۹۰۲ء آج سیر میں عبد الحق بی۔اے نے اپنا مضمون رسالہ سراج الحق سنایا۔جو خط کے طور سے بنام سراج الدین عیسائی انہوں نے لکھا ہے۔آج مجھ کو تلاوت قرآن شریف میں دو باتیں نئی خداوند تعالیٰ نے میرے ذہن میں ڈالیں۔ا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمُ اعَدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمُ بِنَعْمَتِةٍ اِخْوَانًا میرے دل میں خداوند تعالیٰ نے ڈالا کہ ایک تو اختلاف کی دوری حضرت رسول کریم کے زمانہ میں ہوئی اور اسی طرح اب مسیح موعود کے زمانہ میں۔فرق و مذاہب مختلفہ کا اتحاد ہم سب عین حضرت میں پاتے ہیں کہ کسی میں ذرا اختلاف نہیں باوجود مختلف الاعتقاد ہونے کے حنفی ، مالکی ، شیعہ سنی ، وہابی۔خارجی سب داخل بیعت ہیں۔تمام اپنے اختلافات کو چھوڑ کر ایک ہو گئے ہیں۔۴۰۴ ٢ - يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوهٌ ، فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُمْ أَكْفَرُ تُمُ بَعْدَ ايْمَانِكُمُ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ وَامَّا الَّذِينَ بُيَضَّتُ وُجُوهُمْ فَفِي رَحْمَةَ اللَّهِ ۖ هُمْ فِيهَا خلِدُونَ۔یہاں خداوند تعالیٰ نے مجھ کو یہ نکتہ سمجھایا کہ انسان کیوں گورے رنگ کو پسند کرتا ہے۔یہ امر ۲۵۰۰۰۰۰۰ ہماری فطرت میں ہے تو میرے دل میں آیا کہ خداوند تعالیٰ نے دو ہی چہرے لکھے ہیں ایک کالے اور ایک سفید یعنی گورے۔دوزخیوں کے کالے اور بہشتیوں کے گورے۔پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ گورا رنگ آرام اور آسائش سے ہوتا ہے اور کال محنت اور تکلیف اور حزن وغم سے۔جب کوئی دھوپ میں پھرے بڑی محنت کرے یا اس کو کوئی بیماری لاحق ہو یا حزن و ملال یا غم وہم ہو یا بڑھاپا چھا جائے تو چہرہ پر سیاہی آتی جاتی ہے۔اور جب آرام و خوشی۔صحت و تندرستی اور جوانی ہوتی ہے تو چہرہ کا رنگ کھلا ہوا اور گورا ہوتا ہے حتی کہ کالے بھی کسی قدر گورے بن جاتے ہیں۔۱۴ اور ۱۵ جنوری کی ڈائری دعا کے متعلق میں بعد کے اوراق میں درج کی جارہی ہے۔