اصحاب احمد (جلد 2) — Page 562
562 لوگوں کو اسی لئے ابتلاء ہوتی ہے) تا وہ پختہ ہو جائیں ( مفصل تقریر ایڈیٹر الحکم نے لکھی ہے ) اس کے بعد ایک عرب کے ساتھ گفتگو کرتے رہے۔۹ جنوری ۱۹۰۲ء ۲۸ / رمضان المبارک آج بھی سیر میں وہ عرب ہی مخاطب رہا آج زینب نے پہلا روزہ رکھا۔میں ۲۸ رمضان المبارک ۱۲۸۶ھ کو پیدا ہوا تھا۔۱۰ جنوری ۱۹۰۲ ۲۹ / رمضان المبارک آج حضرت اقدس به سبب ناسازی طبیعت نماز جمعہ وعصر میں تشریف نہیں لا سکے * ۱۲ جنوری ۱۹۰۲ء آج عید الفطر ہے نماز (صبح) پڑھی۔الحمد اللہ کہ اس وقت ایک گداز طبیعت میں تھا۔بعد نماز تلاوت قرآن شریف وغیرہ سے فارغ ہو کر تہیہ نماز عید کیا۔کچھ کھانا کھایا۔نماز عید کوئی ساڑھے دس بجے شروع ہوئی حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب امام تھے۔آپ نے) سورۃ نوح کی ایک رکوع پڑھی * نہایت پر اثر خطبہ تھا۔بڑا زور دیا (کہ) بدظنی نہایت بری بات ہے یہ خرابیوں تکذیبوں کی جڑ ہے* * ( بعد نماز ظہر وعصر ) مولوی نورالدین صاحب تشریف لے آئے اور اس طرح بعض اور احباب۔بعد مغرب مسجد میں گیا۔وہاں حضرت اقدس تقریر فرما ر ہے تھے۔بڑی لطیف تقریر تھی۔یہ تقریر الحکم جلد ۶ نمبر ۴۵ (صفحہ ۱ تا ۳) پر چه ۰۲-۱۲-۱۷ اور نمبر ۲۶ (صفحہ ۱ تا۲) پر چہ۰۲-۱۲-۲۴ میں موجود ہے۔خطوط واحدانی کے الفاظ ڈائری کا حصہ ہیں۔1 جنوری کی ڈائری اس سے قبل تہجد گزاری وغیرہ کے ذکر میں درج ہو چکی ہے۔* ڈائری میں یہ جگہ خالی ہے۔** یہ عید مسجد اقصیٰ میں پڑھی گئی۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲ ( صفحہ ۱۵ کالم ۳) حضرت مولوی کا خطبہ نمبر ( صفحہ ۸ تا ۱۰) نمبر ۳ ( صفحه ۵ تا۶ ) نمبر ۴ ( صفحہ ۶ تا ۷ ) میں ملاحظہ فرمائیں۔