اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 550 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 550

550 مردان کے بعض لوگوں سے مباحثہ وغیرہ کے تذکرہ پر فرمایا کہ مباحثہ قولی کی بجائے مباحثہ عملی زیادہ مؤثر اور مفید ہوتا ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو اپنا عمدہ نمونہ دکھانا چاہئے تقویٰ اختیار کرنا چاہئے تقویٰ سے ظفرمندی قرب خدا اور رعب پیدا ہوتا ہے اسی سلسلہ تقریر میں ایک جگہ فرمایا کہ پابندئ رسوم نامردی ہے۔پھر ایک جگہ فرمایا کہ سید احمد صاحب اور مولوی محمد اسمعیل صاحب نیک تھے مگر جہاد کا سلسلہ بے وقت تھا۔یہ وعظ ونصیحت سے کام نکالنا چاہئے تھا اور فرمایا حضرت رسول کریم نے حفاظت خود اختیاری کے لئے اور امن قائم کرنے کے لئے جہاد کئے تھے جبر مخالف کی طرف سے ہوتا ہے ہم کو نرمی سے کام لینا چاہئے کیونکہ دکھ تو ان کو ہے جن کے لوگ گھٹ رہے ہیں نہ کہ ہم کو جن کے بڑھ رہے ہیں۔بعد سیر انوار حسین خاں آگئے * اور پھر مولوی نورالدین صاحب تشریف لائے میری آنکھیں اور حلق دیکھا بعد ظہر و عصر سکیم بنائی سیلیکٹ کمیٹی کا جلسہ ہوا۔اور پانچ بجے کے قریب تک رہا مغرب اور عشاء کے درمیان ڈوئی کی کتاب پڑھی گئی۔۲۶ نومبر ۱۹۰۱ء بروز منگل آج سیر میں عجیب مضامین پر حضرت اقدس نے تقریریں فرما ئیں عبدالعزیز نو مسلم سے آپ نے ارشاد فرمایا کہ ہم تو تمہارا جنازہ پڑھنے والے تھے لیکن احتیاطاً نہیں پڑھا تھا شکر کہ تم زندہ آگئے اور اس سے اس کے گھر والوں کی مخالفت ( کا ) حال دریافت فرمایا۔اس پر اس نے برہمنوں سے مباحثے اور گھر والوں کے اختلاف کے متعلق نہایت عمدہ تقریر میں بتایا * اس کی کلام کی تائید میں ( حضرت ) اقدس نے تقریر فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے۔علم کا نام مذہب ہے جو بلوغ کے بعد حاصل ہوتا ہے گو بر پینا غیر معقول اور فطرت کے برخلاف ہے خون حضرت سید احمد بریلوی مجد د صدی سیز دہم اور آپ کے رفیق حضرت مولوی اسمعیل صاحب شہید مراد ہیں۔دونوں کے مزار بمقام بالاکوٹ ضلع ہزارہ خاکسار کو دیکھنے کا موقعہ ملا ہے۔دونوں وہیں قوم مو دراز کے ہاتھوں اور بعض مسلمانوں کی غداری سے شہید کئے گئے تھے (مؤلف) آپ کے قادیان آنے اور واپس جانے کا ذکر الحکم جلد ۵ نمبر ۴۳ صفحه ۱۵ کالم۱)، نمبر ۴۴ ( صفحه ۴ کالم ۳) میں موجود ہے۔آپ کا نام فہرستہائے آئینہ کمالات اسلام و ضمیمہ انجام آتھم میں۰ ۱۲۸ اور ۵۲ نمبر پر مرقوم ہے۔شیخ عبدالعزیز صاحب نو مسلم وفات پاچکے ہیں۔