اصحاب احمد (جلد 2) — Page 551
551 پینا ہندوؤں کے مذہب میں ہوتا تو ایک حد تک موافق فطرت ہوتا کیونکہ جنین کی خوراک خون ہوتا ہے نہ کہ گوہر۔ایسی حالت میں ہم سمجھتے کہ اسفل سافلین کی طرف ہندوؤں نے رجوع کر کے پھر ا بتدائی حالت کی طرف گئے ہیں۔سادہ ہند و تو نیوگ کے مسئلہ کے برا ہونے کا اظہار کر دیتے ہیں۔قرآنی تعلیم فطرت کے موافق ہے۔ہم کو کوئی یہ بتائے کہ یہ مسئلہ فطرت کے برخلاف ہے۔مسلمانوں کی کامیابی اور ظفریابی کے (یہ دوامور ) ہیں ایک حقوق خدا کو صحیح طور سے بیان کرنا دوسرے حقوق خلق کو اور یہ سچے مذہب کی شناخت ہے آریوں نے دونوں حقوق کو زائل کر دیا۔ان کا اعتقاد ہے کہ روح اور پر مانو یعنی ذرات خدا نے نہیں بنائے یہ خود بخود ہیں۔خدا نے محض ان کو جوڑ دیا ہے۔۲/ دسمبر ۱۹۰۱ء آج میں نے حضرت اقدس کو لکھ کر بھیجا کہ حضور کے ہاں جو بشیر ، شریف احمد اور مبارکہ کی آمین ہوئی ہے اس میں جو تکلفات ہوئے ہیں وہ گو خاص صورت رکھتے ہیں کیونکہ مخدوم زادگان پیشگوئیوں کے ذریعہ سے پیدا ہوئے ان کے ایسے مواقع پر جو اظہار خوشی کی جائے وہ کم ہے۔مگر ہم لوگوں کے لئے کیونکہ حضور بروز محمد ہیں اس لئے ہمارے لئے سنت ہو جائیں گے۔اس پر سیر میں کچھ فرمایا جائے۔“ اس پر حضرت اقدس نے تقریر سیر میں فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے۔الاعمال بالنیات ایک مسلم مسئلہ اور صحیح ترین حدیث ہے۔اگر کوئی ریا سے اظہار علی الخلق وتفوق علی الخلق کی غرض سے کھانا وغیرہ کھلاتا ہے تو ایسا کھانا وغیرہ حرام ہے یا معاوضہ کی غرض سے جیسے بھاجی وغیرہ۔مگر اگر کوئی تشکر اور اللہ کی رضا جوئی کی نیت سے خرچ کرتا ہے بلار یا معاوضہ تو اس میں ہرج نہیں۔بلکہ بیا ہوں میں اور ولادت میں بڑا اعلان ہونا چاہئے اور بیا ہوں میں اعلان بدف ضروری ہے بلکہ انگریزی با جا بھی اس غرض سے جائز ہے۔اگر کوئی امر خلاف شریعت نہ ہو تو عورتیں گا بھی لیں تو ہرج نہیں۔لیکن سب سے بڑی بات نیت ہے۔فرمایا کہ بعض لوگ عورتوں کو خلیج الرسن کر دیتے ہیں یہ بھی ٹھیک نہیں۔اور بعض ان سے ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے بہائم اور لونڈیوں سے۔یہ بھی درست نہیں۔جہاں تک شریعت اجازت دیتی ہے وہاں تک ان کو آزادی دینی چاہئے اور جہاں پر شریعت کے خلاف ہو وہاں ان کو روکنا چاہتے ہو الحکم میں مرقوم ہے۔۱۳۰ نومبر ۱۹۰۱ء کو آمین ہوئی۔مساکین اور یتیموں کو کھانا کھلایا گیا۔خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی