اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 519 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 519

519 بھی روحانیت ہوتی ہے۔یہ روحانی ہوتے ہیں۔جن کے ذائقے جدا جدا ہیں۔نماز کا جدا، روزے کا جدا ، حج کا جدا۔خلاصہ یہ کہ جدا جدا ذائقے ہیں جو کمی اس ماہ میں رہ گئی ہے اس کی تلافی دوسرے مہینوں میں کی جائے۔۔۱۲ جنوری ۱۹۰۲ء 66 آج عید الفطر ہے۔نماز صبح پڑھی۔الحمد للہ کہ اس وقت ایک گداز طبیعت میں تھا۔“ ۴-۳-۰۲ کی ڈائری میں ایک نماز کے بھول جانے اور ایک نماز کے باجماعت ادا نہ کر سکنے کا ذکر کر کے تحریر فرماتے ہیں۔خدا تعالیٰ میرے پر رحم کرے اور مجھ کو مقیم الصلوۃ اور چست بنائے۔“ آپ معمولاً شب بیدار اور تہجد گزار تھے۔حتی کہ سفر میں بھی التزام رکھتے۔چنانچہ مکرم بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی سناتے ہیں کہ منٹگمری۔سرگودھا وغیر ہا کے سفر میں جو نواب صاحب نے ریاست کی جاگیر کی بجائے مربعے حاصل کرنے کی خاطر کیا تھا آپ باقاعدگی کے ساتھ تہجد ادا کرتے تھے۔اس طرح مکرم مفتی محمد صادق صاحب فرماتے ہیں کہ ” مرحوم نمازیں ہمیشہ خشوع خضوع کے ساتھ ادا کرتے اور پابندی کے ساتھ تہجد پڑھا کرتے۔نواب مبار که بیگم صاحبہ فرماتی ہیں کہ نواب صاحب بہت دعائیں کرتے تھے رات کو تہجد میں دعائیں کرتے تو یوں معلوم ہوتا کہ خدا تعالیٰ کا نور کمرہ میں نازل ہو رہا ہے۔اور اس طرح دعائیں کرتے اور اس قدر گریہ وزاری کرتے کہ نیند اڑ جاتی تلاوت قرآن مجید کی کثرت کے باعث قریباً تمام قرآنی دعائیں یاد تھیں۔احادیث کی بھی بہت سی دعائیں یاد تھیں جو اکثر پڑھا کرتے تھے“ مکرم ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے تحریر فرماتے ہیں کہ نواب صاحب کے کیرکٹر کے دو پہلو بہت نمایاں تھے۔آپ بڑے عبادت گزار اور بڑے سخی تھے۔نواب صاحب صبح کی نماز سے قبل قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور فرمایا کرتے تھے کہ قرآن مجید ایک سمندر ہے جو کوئی بھی اس بحر میں غوطہ زنی کرے خالی ہاتھ نہ لوٹے گا۔بلکہ کچھ نہ کچھ حاصل کر لے گا۔آپ تلاوت کثرت سے کرتے اور بعض نکات کے معلوم ہونے پر ان کے متعلق علماء سلسلہ سے تبادلہ خیالات کرتے سیدہ موصوفہ فرماتی ہیں کہ آپ تلاوت پابندی سے کرتے تھے اور ماہ رمضان مبارک میں اس میں حمد بیان مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب۔