اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 520 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 520

520 اور زیادتی ہو جاتی تھی۔وہ دعائیں ، وہ رات کو قرآن مجید پڑھنے کی آواز وہ ان کی شب بیداریاں۔اب یاد آتی ہیں تو خیال آتا ہے کہ کیسے بابرکت وجود سے میرا گھر روشن تھا۔اس نور اور رحمت و برکت کی خوشبو سے جس سے میرا گھر منور و معطر تھا اب محروم ہے۔قرآن کریم کی تلاوت آپ کی غذا تھی اور اتنا شوق تھا کہ میاں عبداللہ خاں صاحب اور میاں عبدالرحیم خاں صاحب کو حفظ کرانا شروع کیا مگر وہ قریباً سات سیپارے کرنے پائے آگے نہ کر سکے۔اسی طرح میاں محمد احمد خاں صاحب کو بھی حفظ کرانا چاہا مگر انگریزی تعلیم کا بھی بوجھ تھا ان کو چکر آنے لگے اور وہ بھی حفظ نہ کر سکے۔تینوں نے حافظ روشن علی صاحب سے حفظ کیا جتنا بھی کیا۔قرآن مجید سے عشق ہی تھا کہ آپ نے حضرت اقدس کی وساطت سے حضرت مولوی نورالدین صاحب (خلیفہ اول) کو اپنے ہاں مالیر کوٹلہ بلوایا۔قریباً سال بھر مع اہل و عیال و شاگردان ہر قسم کا خرچ برداشت کر کے تفسیر پڑھی اور دوسری بار پھر ہا اماہ کے قریب آپ کو رکھا بعد ازاں بھی ہمیشہ خواہش رہی کہ حضرت مولوی صاحب وہاں پھر تشریف لائیں بھلا رؤ سا کوان باتوں سے کیا ؟ لیکن یہ قرآن مجید کے عشق کا جذبہ ہی کارفرما تھا۔اس کی تفصیل دوسری جگہ درج کی گئی ہے۔حضرت نواب صاحب کی ڈائری گوحضرت نواب صاحب معمولاً ڈائری لکھنے کا التزام نہ فرماتے لیکن جتنے عرصہ کی ڈائری آپ نے لکھی ہے اس کا ایک حصہ درج کرنا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔اس سے آپ کی سیرۃ وشمائل کا ایک قیمتی حصہ خود آپ کی قلم سے ہمارے سامنے آتا ہے۔آپ ڈائری میں چھوٹے بڑے امور کو محفوظ کرتے۔آپ نے اپنی زندگی کا ایک عملی لائحہ عمل بنایا ہوا تھا اس پر مداومت کرتے۔اگر کسی دن روزانہ معمولات میں فرق آجا تا تو اس کا ذکر بھی کرتے۔اس ڈائری سے اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کے وقت کا اکثر حصہ یا تو عبادت و تلاوت قرآن کریم میں اس بارہ میں الفضل مورخہ ۱۴-۱-۱۴ میں مرقوم ہے کہ یہ خبر مسرت سے پڑھی جائیگی کہ عبدالرحیم خاں وعبداللہ خاں علاوہ فورتھ ہائی کی تعلیم کے سات پارے حفظ کر چکے ہیں آخر الذکر عزیز کا نمونہ قابل قدر ہے۔جو اس جاڑے میں دن چڑھنے سے پون گھنٹہ پیشتر ایک میل کے فاصلہ سے یہاں قرآن مجید پڑھنے کے لئے پہنچ جاتا ہے۔“ ( صفحہ کالم ۲)