اصحاب احمد (جلد 2) — Page 509
509 لڑکی قادیان میں آپ کے ہاں بطور خادمہ رہتی تھی۔چونکہ وہ احمدیت قبول کر چکی تھی اور تہجد پڑھتی تھی بقیہ حاشیہ: - اور احمدیت ہی کو اصل اسلام مانا ہے۔میں خداوند تعالیٰ کی قسم کھا کر یقین کی کے ساتھ کہتا ہوں کہ جس طرح میں نے خدا کو خدا اور محمد رسول اللہ کو اس کا سچا نبی اور افضل الرسل اور خاتم النبیین اور قرآن شریف کو خداوند تعالیٰ کی پاک کتاب مانا ہے اسی طرح اور اسی یقین سے حضرت مرزا صاحب کو سچا نبی مسیح موعود اور مہدی مسعود مانا ہے۔لوگ ایک افسانے کے طور سے اسلام کو اس طرح مانتے ہیں جس طرح اور مذاہب کے پیر وافسانے کے طور سے مانتے اور اصل حقیقت سے بے خبر ہیں۔جنگ ہفتاد ملت همه را عذرینه چوں ندانستند حقیقت ره افسانه زدند آپ لوگ ذرا دل میں انصاف سے غور کر کے دیکھیں کہ آپ کے ہاتھ میں دوسرے مذاہب سے بڑھ کر سوائے افسانہ کے کیا چیز ہے اور آپ اسلام کا امتیاز کیا دوسرے مذاہب سے دکھلا سکتے ہیں؟ مرزا صاحب نے آکر ہم پر خدا اور اسلام اور قرآن شریف حضرت محمد مصطفے کی اصل حقیقت روز روشن کی طرح کھول کر دکھلا دی اور وہ مومنی اور پیاری صورت ان چیزوں کی دکھلائی وہ حسن و احسان دکھلایا ( کہ ) ہم کو ان کا عاشق بنادیا۔اب کوئی چیز ہم کو اس سے ہٹا نہیں سکتی۔پھر پورا نمونہ حسن و احسان محمد مصطفے اپنے عمل سے دکھایا کہ ہم لوگوں کو تمام طرف سے ہٹا کر یعنی تمام ادیان سے ہٹا کر اپنا شیفتہ بنا کر خداوند تعالیٰ سے تعلق پیدا کر دیا اور محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عاشق بنا دیا۔قرآن شریف کے معارف کھولے اور ہم کو تدبر کا سبق پڑھایا پھر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ہم احمدیت سے برگشتہ کس طرح ہو سکتے ہیں؟ کیا کوئی نور کو چھوڑ کر ظلمت اختیار کر سکتا ہے؟ سوائے اس کے کوئی شقی از لی یا خفاش صفت جونور کو دیکھ ہی نہیں سکا۔کیا آپ غور نہیں کرتے کہ مسلمان خواہ کسی فرقہ کا ہے وہ اسلام کو اسی طرح مانتا ہے جس طرح صحابہ مانتے تھے اور اگر ہم ویسے ہیں تو پھر یہ ادبار اور تشنت افتراق کیوں؟ اور کیوں کوئی تدبیر سنبھلنے کی باوجو د لاکھ کوششوں کے کامیاب نہیں ہوتی ؟ عیسائیوں کے حملوں اور ہندوؤں اور دیگر مذاہب کے حملوں سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے اور دوسرے مذاہب کے لئے اسلام جاذب نہیں دوسرے کے لئے تو کیا اپنوں کے لئے بھی نہیں۔اس کی صرف یہی وجہ ہے کہ اپنے اقوال و اعمال سے مسلمانوں نے اسلام کی وہ مکروہ شکل پیش کی ہے کہ بجائے اس کے انسان اس کو قبول کرے اس کو سخت گھن آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان تبلیغ نہیں کر سکتے کیونکہ وہ کیا پیش کریں مرزا صاحب نے اسلام ( کا وہ حسین چہرہ پیش کیا ہے کہ الحمد للہ ہم کسی مذہب کسی فلسفی کسی جاہل کسی عاقل کے سامنے اسلام پیش کرنے میں شرمندہ نہیں اور ہم بلاخوف اسلام کو پیش کر سکتے ہیں آج