اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 502 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 502

502 فرماتے ہیں۔بسم الله الرحمن الرحيم ا نحمده ونصلى على رسوله الكريم مجی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا چونکہ آپ کے ترددات اور غم اور ہم انتہا تک پہنچ گیا ہے۔اس لئے بموجب مثل مشہور ہر کمالے را زوالے امید کی جاتی ہے کہ اب کوئی صورت مخلصی کی اللہ تعالیٰ پیدا کر دے گا۔اور اگر وہ دعا جو گویا موت کا حکم رکھتی ہے اپنے اختیار میں ہوتی تو میں اپنے پر آپ کی راحت کے لئے سخت تکالیف اٹھا لیتا لیکن افسوس کہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے ایسی دعا خدا تعالیٰ نے کسی کے ہاتھ میں ( نہیں ) رکھی۔بلکہ جب کہ وقت آجاتا ہے تو آسمان سے وہ حالت دل پر اترتی ہے۔میں کوشش میں ہوں اور دعا میں ہوں کہ وہ حالت آپ کے لئے پیدا ہو اور امید رکھتا ہوں کہ کسی وقت وہ حالت پیدا ہو جائے گی۔اور میں نے آپ کی سبکدوشی کے لئے کئی دعائیں کی ہیں۔اور امید رکھتا ہوں کہ وہ خالی نہ جائیں گی۔جس قدر آپ کے لئے حصہ تکالیف اور مصیبتوں کا مقدر ہے اس کا چکھنا ضروری ہے بعد اس کے یکدفعہ آپ دیکھیں گے کہ نہ وہ مشکلات ہیں اور نہ وہ دل کی حالت ہے۔اعمال صالحہ جو شرط دخول جنت ہیں دو قسم کے ہیں۔اوّل وہ تکلیفات شرعیہ جو شریعت نبویہ میں بیان فرمائی گئی ہیں اور اگر کوئی ان کے ادا کرنے میں قاصر رہے یا بعض احکام کی بجا آوری میں قصور ہو جائے اور وہ نجات پانے کے پورے نمبر نہ لے سکے تو عنایت الہیہ نے ایک دوسری قسم بطور تمہ اور تکملہ شریعت کی اس کے لئے مقرر کر دی ہے اور وہ یہ کہ اس پر کسی قدر مصائب ڈالی جاتی ہیں اور اس کو مشکلات میں پھنسایا جاتا ہے اور جس قدر کامیابی کے دروازے اس کی نگاہ میں ہیں سب کے سب بند کر دئے جاتے ہیں تب وہ تڑپتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ شاید میری زندگی کا یہ آخری وقت ہے۔اور صرف اسی قدر نہیں بلکہ اور مکروہات بھی اور کئی جسمانی عوارض بھی اس کی جان کی تحلیل کرتے ہیں۔تب خدا کے کرم اور فضل اور عنایت کا وقت آجاتا ہے اور درد انگیز دعا ئیں اس قفل کے لئے بطور کنجی کے ہو جاتی ہیں۔معرفت زیادہ کرنے اور نجات دینے کے لئے یہ خدا کے کام ہیں۔مدت ہوئی ایک شخص کے لئے مجھے انہی صفات الہیہ کے متعلق یہ الہام ہوا تھا۔قادر ہے وہ بارگاہ ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے ہیں ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے دن اہل مصائب کو بڑے بڑے اجر ملیں گے تو جن لوگوں بدر جلد ۲ نمبر ۲۷ صفحہ ۳ والحکم جلد نمبر ۳۹ صفحہ ۲ سے اس الہام کی تاریخ، ارنومبر ۱۹۰۶ء معلوم ہوتی ہے اس لئے یہ مکتوب ۱۹۰۷ ء یا ۱۹۰۸ء کا ہوگا۔