اصحاب احمد (جلد 2) — Page 503
503 نے دنیا میں کوئی مصیبت نہیں دیکھی وہ کہیں گے کہ کاش ہمارا تمام جسم دنیا میں قینچیوں سے کاٹا جاتا تا آج ہمیں بھی اجر ملتا۔والسلام اسی طرح ایک اور مکتوب میں حضور تحریر فرماتے ہیں۔سم الله الرحمن الرحيم خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ نحمده ونصلى على رسوله الكريم محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۳۷۱ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔خاکسار بباعث کثرت پیشاب اور دوران سر اور دوسرے عوارض کے خط لکھنے سے قاصر رہا، ضعف بہت ہو رہا ہے۔یہاں تک کہ بجز دو وقت یعنی ظہر اور عصر کے گھر میں نماز پڑھتا ہوں۔آپ کے خط میں جس قدر ترددات کا تذکرہ تھا پڑھ کر اور بھی دعا کے لئے جوش پیدا ہوا میں نے یہ التزام کر رکھا ہے کہ پنجوقت نماز میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اور میں یہ یقین دل جانتا ہوں کہ یہ دعائیں بریکار نہیں جائیں گی۔ابتلاؤں سے کوئی انسان خالی نہیں ہوتا۔اپنے اپنے قدر کے موافق ابتلاء ضرور آتے ہیں۔اور وہ زندگی بالکل طفلانہ زندگی ہے جو ابتلاؤں سے خالی ہو۔ابتلاؤں سے آخر خدا تعالیٰ کا پتہ لگ جاتا ہے۔حوادث دہر کا تجربہ ہو جاتا ہے۔اور صبر کے ذریعہ سے اجر عظیم ملتا ہے۔اگر انسان کو خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان ہے تو اس پر بھی ایمان ضرور ہوتا ہے کہ وہ قادر خدا بلاؤں کے دور کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔میرے خیال میں اگر چہ وہ تلخ زندگی جس کے قدم قدم میں خارستان مصائب وحوادث و مشکلات ہے بسا اوقات ایسی گراں گزرتی ہے کہ انسان خود کشی کا ارادہ کرتا ہے یا دل میں کہتا ہے کہ اگر میں اس سے پہلے مرجاتا تو بہتر تھا۔مگر در حقیقت وہی زندگی قدرتا ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ سے سچا اور کامل ایمان حاصل ہوتا ہے۔ایمان ایوب نبی کی طرح چاہئے کہ جب اس کی سب اولاد مرگئی اور تمام مال جاتا رہا تو اس نے نہایت صبر اور استقلال سے کہا کہ میں ننگا آیا اور ننگا جاؤں گا۔پس اگر دیکھیں تو یہ مال اور متاع جو انسان کو حاصل ہوتا ہے صرف خدا کی آزمائش ہے۔اگر انسان ابتلاء کے وقت خدا تعالیٰ کا دامن نہ چھوڑے تو ضرور وہ اس کی دستگیری کرتا ہے۔خدا تعالی در حقیقت موجود ہے اور درحقیقت وہ ایک مقرر وقت پر دعا قبول کر لیتا ہے اور سیلاب ہموم و عموم سے رہائی بخشتا ہے۔پس قوی ایمان کے ساتھ اس پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔وہ دن آتا ہے کہ یہ تمام ہموم و عموم صرف ایک گزشتہ قصہ ہو جائے گا۔آپ جب تک مناسب سمجھیں لا ہور میں رہیں۔خدا تعالیٰ آپ کو جلد تر ان مشکلات سے رہائی بخشے۔آمین۔