اصحاب احمد (جلد 2) — Page 500
500 اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا شعر بھی پڑھا کہ ہزار سر زنی و مشکله نه گردد حل چو پیش او بُردی کار یک دعا باشد پھر میں نے عرض کیا کہ دعا کا مطلب بھی الہی قوت تخلیق و تکوین کی شان کا اظہار ہی ہے کہ جو کام عبد اور مخلوق سے نہیں ہوسکتا وہ معبود اور خالق الاسباب اپنی قوت ارادی سے تخلیق اور تکوین میں لاسکتا ہے۔میں اسی طرح کے الفاظ منہ سے کہہ رہا تھا کہ اوپر سے گھنٹی بجی۔میں نے عرض کیا اب گھنٹی بج گئی ہے میں چلتا ہوں آپ نے فرمایا گھنٹی کی کوئی بات نہیں۔آپ تشریف رکھیئے۔آپ کے بیٹھنے سے مجھے مسرت ہے۔اس پر میں ایک دومنٹ ہی اور بیٹھا تھا کہ پھر گھنٹی بجی۔اس پر میں سمجھا کہ آپ کی تکلیف کے خیال سے گھنٹی کو بجانا مناسب سمجھا گیا ہے۔اس پر میں نے آپ سے اجازت لے کر چلنا ہی مناسب سمجھا۔جب میں واپس چلا آیا تو محترم صاحبزادہ میاں عباس احمد خاں نے مجھے ملنے پر فرمایا کہ حضرت نواب محمد علی صاحب یعنی دادا صاحب نے خاں صاحب نواب محمد عبداللہ خاں صاحب کے گھنٹی بجانے کے متعلق سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔اور فرمایا کہ مولوی را جیکی صاحب تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں سے تھے۔آپ تو جتنی دیر بھی میرے پاس بیٹھتے آپ کا بیٹھنا میرے لئے عین راحت اور باعث مسرت تھا۔آپ نے جلدی سے گھنٹی بجادی اور آپ کا جلدی سے گھنٹی بجا دینا مجھے بہت ہی نا پسند اور نا گوار سا محسوس ہوا۔محترم میاں عباس احمد خاں صاحب سے جب میں نے حضرت نواب صاحب کے یہ فقرات سنے پھر علاوہ ان فقرات کے جو انہوں نے مجھ سے اللہ تعالیٰ کی ہستی کی مقتدرانہ شان تکوین اور اس کی قدرت مطلقہ کے متعلق بیان کئے اور میں نے سے پھر ان کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے متعلق اخلاص اور محبت اور احترام کا نمونہ بھی ان کا مومنانہ حسن اخلاق کے لحاظ سے نہایت ہی قابل تعریف محسوس ہوا۔اور جب کبھی ان کا یہ نمونہ مجھے یاد آتا ہے تو ان کے اخلاص اور عارفانہ بصیرت کے یاد آنے سے میرا قلب خاص طور پر اسے محسوس کرتا اور اس سے استفاضہ کرتا ہے اور حضرت اقدس سیدنا مسیح الموعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وحی مقدس کی بشارت حجتہ اللہ حضرت نواب صاحب رضی اللہ عنہ کے حق میں ایسا پر عظمت شان کا اعزازی خطاب ہے جو قیامت تک کے لئے باعث فخر و مباہات اور نشان سعادت و موجب برکات ہے۔رضی الله عنه وارضاه في الحنته العليته بدرجاته الرفعيته _آمین ثم آمین۔آپ کے صاحبزداہ مکرم میاں مسعود احمد خاں صاحب سناتے ہیں کہ شورش احرار کے ایام میں کسی شخص نے حضرت نواب صاحب کو لکھا کہ مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی ہے کہ آپ احمدیت ترک کر کے مالیر کوٹلہ چلے گئے