اصحاب احمد (جلد 2) — Page 496
496 شادی ہوئی تو آپ نے میاں صاحب کو حضرت اماں جان کے گھر جانے سے روک دیا۔کیونکہ نواب صاحب کا یہ خیال تھا کہ سنت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دولہا دولہن کے گھر جا کر دولہن کو اپنے ساتھ اپنے گھر لائے۔ایک طرف اپنے نقطہ نگاہ پر اتنا اصرار اور وہ بھی حضرت اماں جان سلمھا الرحمن سے جن کے ساتھ آپ کا روحانی اور جسمانی دو ہر رشتہ فرزندی تھا۔اور دوسری طرف عاجزی کی یہ کیفیت کہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب جو کہ آپ کے داماد تھے ، ان کے آنے پر کھڑے ہو جاتے تھے۔“ 66 آپ کی جرأت اور شجاعت اور حق گوئی کا قدرے ذکر آتھم کی پیشگوئی کے تعلق میں ہو چکا ہے۔آپ فراست مومنانہ سے بہرہ کامل رکھتے تھے۔چنانچہ آپ نے بارہا والئی ریاست کو خشیت الہی کے اختیار کرنے کی تلقین کی اور جن نتائج کا آپ نے خطرہ ظاہر کیا تھا وہ ظاہر ہوئے۔آپ نواب احمد علی خاں صاحب سپرنٹنڈنٹ ریاست کو تحریر فرماتے ہیں۔اگر مظلوم کی آہ یا کسی بیوہ کی پکار پر خداوند تعالیٰ جو دانا و بینا ہے اور جس کی یہ ڈھیل آپ کے لئے مفید نہیں بلکہ خطر ناک توجہ کی تو پھر خدا کی پناہ چراغے کہ بیوه ز نے برفروخت بسے دیده باشی کہ شہرے بسوخت بنترس از آه مظلوماں کہ ہنگام دعا کردن اجابت از در حق بہر استقبال می آید جناب کو معلوم ہے کہ حکام کی خوشی یا نا راضگی ایک عارضی ہے۔اصل خوشی یا نا راضگی اس الرحمان الرحیم کی ہے جو مالک یوم الدین ہے اگر وہ مہربان ہے تو کل مہربان۔پس جناب چند منٹ غور فرمائیں کہ کیا یہ سب امور اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ امور ہیں اور پھر اس کی مصالحت کی یا فاذنُوا بِحَرُبِ مِنَ اللہ کی ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کا مقابلہ ہے۔خدا وند تعالیٰ کی گرفت سے ڈرنا چاہئے۔اور اس کی پکڑ نہایت سخت ہے اور اس کی لاٹھی میں آواز نہیں اور وہ اچانک آپڑتی ہے۔جناب بے غرضانہ عدل و انصاف پر کمر باندھیں۔خداوند تعالیٰ سے صلح فرما ئیں پھر خداوند تعالی خود آپ کا