اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 490 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 490

490 آپ کے خرج عمارت کو موجودہ حالت میں خاکسار زیادہ پسند نہیں کرتا۔اور غالباً اشارہ بلکہ ظاہراً بھی بہت کچھ عرض کیا۔میرا تعلق بحمد اللہ کسی کافر سے نہیں رہا۔نواب صاحب! جب میں بہاولپور کو گیا ہوں اس وقت سے میرے ساتھ جموں کی ریاست نے ترک تعلق کیا ہے اور میں نے بھی پرواہ نہیں کی۔اور اب تو قادیان میں رہ کر اگر کسی امیر سے تعلق رکھا ہے تو اس کا نام محمد علی خاں ہے اور بس۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہاں بھی میں کسی امیر کو رغبۂ نہیں ملا۔رہی تجارت۔میں نے نہایت عمدہ تدبیر کی تھی۔مگر مجھے افسوس ہے کہ جن لوگوں کو میں نے اس وقت تحریک کی ان کے سامنے شرمندگی ہوئی۔بہر حال جناب سر دست تجارت کا خیال بالکل ترک فرما دیں۔اور بجائے اس کے دعاؤں پر۔تقویٰ پر آپ زور دیں۔اسی طرح آپ نے تحریر فرمایا: مکرم معظم جناب خاں صاحب محمد علی خاں صاحب بالقابه السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔آپ کی تین تحریریں مدت سے میرے مدنظر ہیں اور بہت توجہ کی۔آج اس وقت دعا کے لئے تنہا ہوں تو آپ کی تحریر پہلے سامنے آئی۔میں نے اسے موخر۔۔۔میرا منشاء تھا کہ آپ کو مفصل جواب دوں مگر آپ میری موجودہ تعلیم اور حالات سے قطعاً نا واقف ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے توجہ دلائی کہ آپ کو مختصر لکھوں والحمد الله رب العلمین۔آپ غور کریں اور خوب سوچیں۔گو آپ کو فرصت نہیں مگر دیکھو میں نے حالت علالت میں آپ کا سارا سارا خط پڑھا۔“ جیسا کہ خلافت کے تعلق میں دوسری جگہ مفصل مذکور ہے۔حضرت مولوی صاحب کی نظر میں نواب صاحب روحانی طور پر اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ورنہ حضرت مولوی صاحب جیسی بے نیاز طبیعت والا شخص کسی راجہ مہاراجہ تک کومحض امارت کی وجہ سے پر پشہ کے برابر وقعت نہ دیتا اور خاطر میں نہ لاتا تھا۔ادھر نواب صاحب کا یہ طریق تھا کہ باوجود اپنی ریاست و امارت اور دنیوی وجاہت کے کہ جس کے مالک لوگوں سے نہ تک سننے کے عادی نہیں ہوتے حضرت مولوی صاحب کی سرزنش کو بھی نا پسند کرتے تھے۔اور سعی بلیغ