اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 465 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 465

465 ہوا۔اس کے اسباب اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں۔مگر ہمیں سپارش کرنا حکم الہی اور حکم رسول ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم سپارش کر دیا کریں۔اگر آپ سے ہو سکے تو اب ایک سپارش اس یتیم بچہ کے لئے لکھ دیں۔والا جر من اللہ الکریم۔۱۳- معز ز الحکم کی اعانت نورالدین ۷/جنوری ۱۳ء الحکم کو سلسلہ کا سب سے پہلا اخبار ہونے کا فخر حاصل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسے اور البدر کو سلسلہ کے دوباز و قرار دیتے تھے۔سوالحکم کی اعانت سلسلہ کے دست و بازو کی تقویت کے مترادف تھی۔پر چہ ۹۹-۴-۲۶ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نواب صاحب نے اس کی ایک سو روپیہ سالانہ امداد مقرر کر رکھی تھی۔اور یہ وعدہ عملاً ایفاء ہوتا رہتا تھا یہ مکرم عرفانی صاحب نواب صاحب کی اعانت اور عالی ہمتی کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔و بعض وقت وہ خود قرض لیتے اور اہل غرض کو دے دیتے۔میں نے مکان بنانے کا ارادہ کیا۔حضرت نواب صاحب سے بے تکلفی تھی اور مجھ سے انہیں خاص محبت تھی۔میں نے کہا نواب صاحب ! زمین لے لی ہے۔مکان بنانے کا ارادہ ہے۔اس کا نقشہ بنادیجئے۔فرمایا نقشہ کے لئے اوّل یہ معلوم ہو کیا بنانا ہے۔دوم کس قدر رو پیہ خرچ کرنا ہے۔میں نے ) کہا کہ دفتر کے لئے ایک بڑا کمرہ۔دو چھوٹے حجرے اور رہنے کے لئے ایک کمرہ بڑا اور دو کوٹھڑیاں۔باورچی خانہ اور غسل خانہ۔اور روپیہ میرے پاس تو ہے نہیں۔آپ نے دو سال کا چندہ الحکم کا دینا ہے۔ایک سال کا پیشگی یہ دے دیں۔یہ تین سو ہوتا ہے۔آپ ہنسے اور فرمایا کہ نقشہ بھی میں بنا دوں اور بنوا بھی دوں۔میں نے کہا بنوانے کے لئے تو آسانی ہے آپ کا مستقل عملہ تعمیر ہے اور اب وہ قریباً بے کار ہے بس اس رقم میں دونوں کام ہو جائیں گے۔انہوں نے خوشی سے اتفاق فرمایا اور سندر مستری، ہیرا مستری اور اسمعیل معمار کو حکم دے دیا یہ ہو اس طرح پر الحکم کے دفتر کی تعمیر شروع ہوئی۔مگر پھر م اس وعدہ کا ذکر الحکم پر چہ ۹۹-۴ - ۲۶ صفحه ۵ پر اور ایفاء کا ذکر پر چه ۰۱-۱۱- ۱۷ صفحه ۴ پر چه ۰۳-۱۲-۳۰ صفحہ ۱۲ میں آتا ہے۔اسمعیل صاحب معمار کے متعلق مکرم میاں محمد عبد الرحمن خان صاحب ذکر کرتے ہیں کہ یہ حضرت والد صاحب کے پاس بطور معمار ملازم تھے۔مالیر کوٹلہ کے رہنے والے تھے۔قادیان میں فوت ہو کر بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔افسوس کہ ان کی اولا داحمدی نہیں۔“