اصحاب احمد (جلد 2) — Page 423
423 دیکھ لیا ہے۔نہایت عمدہ ہے بہتر ہے کہ اس کو اس مضمون کے ساتھ شامل کر دیا جائے۔کل مـع الـخـيـر عـلـى الصباح تشریف لے جاویں۔اللہ تعالیٰ خیر و عافیت سے پہنچائے۔آمین۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۴ جولائی ۹۸ ۱۲۹۶ آپ کو تبلیغ کا جو شوق تھا وہ آپ کی ۰۱-۱۱-۱۸ کی ڈائری کے ذیل کے اقتباس سے ظاہر ہے فرماتے ہیں۔میں نے عرض کیا ہے کہ ایک امریکہ کی کمپنی کا ایجنٹ میرے پاس آیا اس نے کہا تھا کہ تم اپنی تصویر ؟ اور اپنے حالات خاندان لکھو ہم دوسو روپے میں چار کتابیں دیں گے۔میں نے سوچا کہ بجائے میرے حضور کی تصویر ہو اس طرح امراء اور انگریزوں میں تبلیغ کا ذریعہ ہے۔فرمایا مناسب ہے۔“ تبلیغ کو خلاف وقار نہ سمجھنا آپ کے دل میں دوسروں کی ہدایت کے لئے ایسا بے پناہ جذبہ تھا کہ اس امر کو خلاف وقار نہ سمجھتے تھے کہ دنیوی لحاظ سے فلاں شخص ادنی ہے اس لئے اسے تبلیغ نہ کی جائے چنانچہ ہمیں آپ کی ڈائری سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے بچوں کے ایک خادم کو آپ نے تبلیغ کی اسے سمجھ نہ آتی تھی تو آپ نے اس کے لئے دعا کی تبلیغ بھی کوئی چند لحات پر ممتد نہ تھی بلکہ شیخ صاحب اور عبد اللہ صاحب عرب پر چھ سات گھنٹے آپ نے ایک دن میں صرف کئے ( وہ حصہ دوسری جگہ درج ہے ) آپ اپنی ڈائری مورخہ ۰۲-۳-۷ میں تحریر فرماتے ہیں۔آج شیخ عبدالرحمن خادم اولاد کے ساتھ دعویٰ حضرت اقدس کے متعلق گفتگو ہوتی رہی اس کی نہایت کٹھن طبیعت تھی اس میں کچھ آتا ہی نہیں تھا اور جو سنتا تھا وہ یاد نہ رہتا تھا آج میں نے اس (سے) گفتگو کی اور خداوند تعالیٰ سے دعا کی۔خداوند تعالیٰ نے نصرت فرمائی اور آخر شیخ عبدالرحمن کی تسلی ہو گئی اور آج اس نے بیعت کی درخواست کی۔مگر حضرت اقدس نے فرمایا کہ کل کرنا الحمد للہ علی ذالک۔“ یعنی حضرت اقدس کی خدمت میں (مؤلف) مکرم عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ ” شیخ عبدالرحمن صاحب مسکین جو ماسٹر احمد حسین فرید آبادی کے برادر اور بزرگ تھے میری ہی سفارش پر بچوں کی خدمت پر مامور کئے گئے تھے۔اس وقت وہ احمدی نہ تھے مگر طبیعت میں مسکینی اور فروتنی تھی اپنے سابقہ عقیدہ میں کٹر تھے، ان کو میں نے شعر گوئی کی تحریک کی ان کی سادگی کے خیال سے یہ مذاق ہی تھا۔انہوں نے کچھ تک بندیاں کیں