اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 409 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 409

409 سڑک پر سے جلوس نکالنے کی ممانعت کر دی۔اب ان شیعہ شرکاء کا ریاست سے جھگڑا شروع ہو گیا۔ہمارے چچاز دا بھائی میاں احسان علی خاں صاحب نے نواب صاحب کی وفات کے بعد ذکر کیا کہ میں نے اس تنازع کے دوران میں اپنے کسی ذاتی امر کے متعلق نواب صاحب مرحوم سے مشورہ کیا اور آپ نے ایسا صحیح مشورہ دیا کہ میرے والدین بھی زندہ ہوتے تو ایسا صحیح مشورہ نہ دے سکتے حالانکہ اگر چاہتے تو کوئی غلط مشورہ دے کر کسی الجھن میں ڈال دیتے۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ اپنے رشتہ داروں سے دینی معاملات میں نواب صاحب جتنی خشکی کا سلوک کرتے تھے اور کسی امر میں ان میں سے عزیز ترین کا بھی اثر نہ لیتے تھے اُسی قدر دنیوی امور میں ان کے ہمدرد ان سے محبت کرنے والے۔بہترین صلاح کار اور ان کے ساتھ سچی ہمدردی رکھنے والے ثابت ہوتے تھے۔اور اس کا ان سب پر اثر تھا۔بڑے سوتیلے بھائیوں کا بے حد ادب کرتے اور تبلیغی خطوط میں بھی ان کو جناب سے مخاطب کرتے تھے۔کسی پر اثر ہوایا نہ ہوا مگر انہوں نے عمر بھر ہر موقعہ پر عزیزوں میں تبلیغ کی۔آپ کے سب عزیز نواب والی کالیر کوٹلہ تک فریق مخالف ہونے کے باوجود آپ کو ایک صادق انسان اور ہر ایک کا سچا بہی خواہ جانتے تھے اور ہر مشکل معاملہ میں خواہ ان کا ذاتی ہومشورہ چاہتے تھے۔اور جھگڑوں کی صورت میں اکثر آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔نواب صاحب والی مالیر کوٹلہ کو آپ کے مشورہ پر بڑا اعتماد تھا ، وہ عموما مشورہ لیتے اور اسی پر عمل کرتے اور ان کی خواہش ہوتی کہ آپ مالیر کوٹلہ میں رہیں تا کہ وہ مشکلات کے وقت آپ سے مشورہ لے سکیں۔آپ بھی بہت دیانتداری کے ساتھ مشورہ دیتے تھے۔ذیل میں نواب صاحب کا خط نواب احمد علی خاں صاحب کے نام درج کیا جاتا ہے مؤخر الذکر اس وقت اپنے والد نواب ابراہیم علی خاں کی علالت کے باعث بطور سپر نٹنڈنٹ ریاست کام کرتے تھے ، اس خط سے نواب صاحب کے علوا خلاق اور اقارب سے حسن سلوک اور اقارب کی طرف سے آپ کی تکلیف کا ذکر ہے۔اس خط کا ایک حصہ بخوف طوالت درج نہیں کیا جاسکا لیکن اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نواب احمد علی خاں کی طرف سے سلوک اچھا نہ تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ سرکاری طور پر نواب لوہار وجو ریاست میں متعین تھے۔ان کا رویہ اچھا نہ تھا اور ان کے اکسانے سے نواب احمد علی خاں صاحب کی طرف سے نامناسب سلوک ہوا تھا۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم نواب صاحب مکرم و معظم سلمکم اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم کوٹلہ سے بعض خطوط اور واقعات نے مجھ کوتحریک کی ہے کہ میں آپ کو یہ خط لکھوں آپ سے پہلے بھی میری کئی ایک پرائیویٹ گفتگوئیں ایسے معاملات میں ہوئی