اصحاب احمد (جلد 2) — Page 324
324 جھگڑا تو آپ جانتے ہیں کبھی دبا ہی نہ تھا۔صرف پر پر زہ سنبھالنے کے لئے ذراسی مہلت ڈھونڈی گئی تھی۔ورنہ دلوں میں تو وہی بغض بھرا ہوا تھا۔جب اپنے دوستوں میں ملے تو اور ، اور جب مولوی صاحب کے سامنے ہوئے تو اور ، جھگڑے بڑھتے گئے اور مولوی صاحب دباتے گئے۔ہر دفعہ جب کوئی جھگڑا اُٹھتا تو مولوی صاحب کا ”مقدس‘ وجود الگ ہی رکھا جاتا تھا۔اشاروں اور کنایوں میں باتیں ہوتی تھیں۔مولوی صاحب خوب سمجھتے تھے مگر جیسا کہ آپ نے بارہا میرے سامنے بیان فرمایا آپ چاہتے تھے کہ آپ کی زندگی میں کوئی فساد نہ ہو اور آپ کا زمانہ با امن یا بظاہر امن کی حالت میں گزر جائے عمر مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔مولوی صاحب کی خاموشی نے ان کو یہ موقعہ دیدیا کہ ریشہ دوانیاں برابر شروع رہیں اور ایک مدت سے یہ کارروائی شروع ہوئی کہ ایک معاملہ میں مولوی صاحب کی مخالفت کی مگر آپ کے کہنے پر فور أشرح صدر ہو گیا۔کچھ دنوں کے بعد مان تو لیا مگر شرح صدر نہ ہوا۔پھر ما نا مگر وجہ پوچھی کہ کیوں مانیں اور شرح صدر بتانے پر بھی نہ ہوا جب دیکھا کہ طاقت اور بھی مضبوط ہوگئی ہے تو پھر بظاہر تو کچھ عذر کر دیا مگر اندرونی طور سے مولوی صاحب کے برخلاف کام کیا۔اس سے بھی بڑھے تو صاف الفاظ میں پریذیڈنٹ شپ کا نوٹس دیدیا۔مولوی صاحب نے ڈانٹا تو صاف کہدیا کہ اصل خلیفہ ہم ہیں وہ ہوتے کون ہیں۔جھگڑا بڑھا تو یہاں تک پہنچے کہ مولوی صاحب کی عقل ماری گئی ہے (نعوذ بااللہ ) یہ تو خلاصہ ہے اب اصل سنیے۔آپ کے جانے کے بعد جھگڑوں نے اور بھی زور پکڑا اور اونٹ کی پیٹھ کا آخری تنکا حکیم فضل الدین صاحب کا مکان بنا۔ایک شخص زمان شاہ نے کہا کہ یہ مکان ایک مصیبت کے وقت ہم نے حکیم صاحب کے پاس نو سور و پیہ کو بیچا تھا اب یہ ہمارے پاس دوبارہ فروخت کر دیا جائے۔قیمت ساڑھے چار ہزار مقرر ہوئی۔مولوی محمد علی صاحب نے تین ماہ کی مہلت پر اس سے فیصلہ ٹھہرایا۔مولویصاحب نے سفارش فرمائی۔کمیٹی میں بات پیش ہوئی۔مولوی صاحب موجود تھے۔جب اس معاملہ میں باہر کی رائیں دیکھنے لگے تو ایک رائے مولوی غلام حسین صاحب کی تھی جس میں مولوی غلام حسین نے لکھا تھا کہ یہ مکان تو بارہ ہزار کا ہے قوم کا روپیہ اس طرح کیوں ضائع کیا جاتا ہے۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ انہوں نے نہایت گستاخی سے کام لیا ہے میں نے سفارش کی ہے اور انہوں نے میری بیعت کی ہوئی ہے۔پھر وہ اس بات کے معلوم ہونے پر اس گستاخی سے لکھتے ہیں۔اگر مکان اس قیمت پر بکتا تھا۔تو پھر اب تک بیچ کیوں نہ لیا اس لئے میں اب اس معاملہ پر رائے نہیں دیتا اور یہ کہہ کر آپ اُٹھ کر چلے گئے۔مناسب تو یہ تھا کہ اس معاملہ کو برقرار رکھا جاتا۔مولوی صاحب کے اس فیصلہ کو کہ اب میں رائے نہیں دیتا ایک آڑ بنا کر فیصلہ کر دیا کہ مکان اس کے