اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 314 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 314

314 دکھا کر سمجھانا چاہا کہ انجمن ہی آپ کے بعد جانشین ہے۔لوگوں کے دل چونکہ خشیتہ اللہ سے معمور ہورہے تھے اور وہ اس تحریر کی حقیقت سے ناواقف تھے وہ یہ دیکھ کر کہ حضور نے صدر انجمن کی جانشینی کا فیصلہ کر دیا تھا اور بھی زیادہ جوش میں بھر گئے۔جلسہ کے وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے حضرت صاحبزادہ صاحب ( خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ ) سے کہا کہ آپ حضرت خلیفتہ اسیح اول سے جا کر کہیں کہ اب فتنہ کا کوئی خطرہ نہیں رہا کیونکہ سب لوگوں کو بتا دیا گیا ہے کہ انجمن ہی حضرت مسیح موعود کی جانشین ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے خاموشی مناسب سمجھی ، تو ڈاکٹر صاحب خود گئے اور عرض کیا کہ مبارک ہو سب لوگوں کو سمجھا دیا گیا ہے کہ انجمن ہی جانشین ہے۔یہ سُن کر آپ نے فرمایا کونسی انجمن ؟ جس انجمن کو تم جانشین قرار دیتے ہو وہ تو خود بموجب قواعد کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔اس فقرہ کو سُن کر شاید خواجہ صاحب کے ساتھیوں کو پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ معاملہ ویسا آسان نہیں جیسا کہ وہ مجھے تھے۔گوہر ایک خطرہ کو سوچ کر انہوں نے لوگوں کو اس امر کے لئے تیار کر لیا تھا کہ اگر حضرت خلیفتہ المسیح اول ان کی رائے تسلیم نہ کریں تو مقابلہ کیا جائے لیکن عموما یہ لوگ یہی خیال کرتے تھے کہ حضور ان کے خیالات کی تائید کریں گے۔اب مسجد مبارک کی چھت پر دو اڑھائی صدا حباب جن میں سے اکثر احمد یہ جماعتوں کے قائمقام تھے جمع ہوئے اس دن آئندہ کے لئے امن کی بنیاد پڑنی تھی یعنی یہ فیصلہ ہونا تھا کہ احمد یت دنیا کی عام سوسائیٹیوں کا رنگ اختیار کرے گی یا رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کی جماعت کا رنگ۔حضرت خلیفہ اسیخ اول کے لئے مسجد میں جو جگہ تیار کی گئی تھی حضور نے وہاں کھڑے ہونے سے انکار کر دیا اور ایک طرف جانب شمال اس حصہ مسجد میں کھڑے ہو گئے۔جسے حضرت مسیح موعود نے خود تعمیر کروایا تھا۔اس تقریر میں آپ نے فرمایا کہ خلافت ایک شرعی مسئلہ ہے اس کے بغیر جماعت ترقی نہیں کر سکتی۔مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ان لوگوں میں سے اگر کوئی مرتد ہو جاوے گا تو میں اس کی جگہ تجھے ایک جماعت دوں گا۔خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کے جوابوں کا ذکر کر کے فرمایا کہ مجھے کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام نماز پڑھا دینا یا جنازہ یا نکاح پڑھا دینا یا بیعت لے لینا ہے۔یہ جواب دینے والے کی نادانی ہے اور اس نے گستاخی سے کام لیا ہے۔اسے تو بہ کرنی چاہئے ورنہ نقصان اُٹھائے گا۔خواجہ صاحب اور محمد علی صاحب کی از سرنو بیعت لینا اور انکی باطنی حالت تقریر کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب اور حضرت نواب صاحب سے رائے دریافت کی۔ان