اصحاب احمد (جلد 2) — Page 315
315 دونوں نے کہا کہ ہم تو پہلے ہی ان خیالات کے موید ہیں۔حضرت نے خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کو دوبارہ بیعت کرنے کے لئے کہا اور مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو بھی اس لئے کہ شیخ صاحب نے بلا اجازت وہ جلسہ کیا جس میں خلافت کی تائید میں دستخط لئے گئے تھے ہیں نواب صاحب قادیان سے باہر گئے ہوئے تھے۔حضرت خلیفہ اول نے انہیں تار دے کر اس موقعہ پر بلایا۔جب حضور نے تقریر فرمائی تو تمام حاضرین روتے تھے۔اور ان لوگوں (یعنی خواجہ صاحب وغیرہ) سے دوبارہ بیعت لی گئی۔نواب صاحب بیان کرتے تھے کہ وہاں سے اتر تے ہوئے سیڑھیوں میں ہی مولوی محمد علی صاحب نے اعتراض کے رنگ میں کوئی بات کہی تو نواب صاحب نے کہا کہ ابھی تو آپ روتے تھے تو کہنے لگے کہ میں غصہ کی وجہ سے روتا تھا۔ان لوگوں نے دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب ہو نہار ہیں اور ان کے ایک وقت ان لوگوں سے بڑھ جانے کا امکان ہے اس لئے ذاتی طور پر مخالف ہو گئے اور بہت حسد کرتے تھے۔نواب صاحب کہتے تھے کہ خلافت کے خلاف بغاوت کا بیج ان لوگوں کے دلوں میں حضرت مکرم عرفانی صاحب نے مجھے لکھا ہے کہ ” مجھے جب لاہور کے جلسہ کی کیفیت معلوم ہوئی تو میں نے قادیان کی جماعت کو اپنے مکان پر جمع کر کے اصل حالات سے واقف کر دیا۔اور ان کو اپنی رائے کے اظہار کے لئے آزادی دی۔دو کے سوا سب نے میری تائید کی اور میں ان آدمیوں میں سے ایک تھا جن کو حضرت خلیفہ اسیخ اول نے سوالات کا جواب دینے کے لئے مخصوص کیا تھا۔میرے پاس جب سوالات اس مقصد کے لئے آئے تو میں سیدھا دارا سیخ میں پہنچا۔جہاں ان ایام میں حضرت خلیفہ اول مقیم تھے اور ان سے عرض کیا کہ ان سوالات کا جواب تو آپ کو دینا ہے کہ خلیفہ اور انجمن کا کیا تعلق ہے۔آپ نے میرے پاس کیوں بھیجے ہیں۔فرمایا میں تو جواب دوں گا مگر میں تم لوگوں کے خیالات بھی معلوم کرنا چاہتا ہوں۔تم نے کیا سمجھا ہے۔میں نے کہا میرا جواب تو بہت واضح ہے اللہ تعالیٰ نے آدم کا واقعہ بیان کیا ہے اور ملائکہ کو اس کی فرمانبرداری کا حکم دیا خلافت کا مقام تو اتنا بلند ہے (کہ) انجمن اگر فرشتہ بھی ہو ( تو ) اسجدوا لآدم کا حکم ہے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا جواب ان سوالات کا لکھو اور مجھے دیدو۔چنانچہ میں نے جوابات بالتفصیل لکھ کر دیدئیے۔میرے خلاف تو خطرناک منصوبہ تھا کہ اس کو قادیان سے جلا وطن کر دیا جاوے۔لاہور میں یہی طے ہوا تھا اور مجھے مکرم سید محمد اشرف صاحب نے اس کی اطلاع میرے گھر پر آ کر دی۔اتبداء یہ کسی کو معلوم نہ تھا کہ سوالات کس نے کئے ہیں اس لئے وہ مجھ ہی کو اس کا بانی قرار دیتے رہے اور بعد میں اس حقیقت کے معلوم ہو جانے پر بھی کہا کہ اس ( یعقوب علی ) نے اپنے بچاؤ کے لئے حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ کو آگے کر دیا تھا۔حالانکہ مجھے اس کی کچھ خبر نہ تھی جب تک حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے وہ سوالات مجھے نہ بھجوائے۔(مولف)