اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 312 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 312

312 پارسا طبع اور دیانتدار ہوں اور اگر آئندہ کسی کی نسبت یہ محسوس ہوگا کہ وہ پارسا طبع نہیں ہے یا یہ کہ وہ دیانتدار نہیں یا یہ کہ وہ ایک چال باز ہے اور دنیا کی ملونی اپنے اندر رکھتا ہے تو انجمن کا فرض ہوگا کہ بلا توقف ایسے شخص کو اپنی انجمن سے خارج کرے اور اس کی جگہ اور مقرر کرے۔“ ان میں پہلے آپ ہوں گے۔اس پر ڈا کٹر سید محمد حسین صاحب مرحوم سجدہ میں گر گئے اور باقی احباب کے چہرے بھی فق ہو گئے۔قصہ کوتاہ نواب صاحب نے فرمایا کہ دکھا دو۔کچھ حرج نہیں۔وہ میرے محسن تھے میں نے لیکچر دکھا دیا۔اور دو تین سطروں کے نکال دینے کی خواجہ صاحب نے خواہش کی۔وہ مطبوعہ کاپی میں کٹی ہوئی ہیں۔اور اظہا ر مطلب کرتی ہیں۔عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ اس واقعہ سے حضرت نواب صاحب کی صلح پسند فطرت کا پتہ لگتا ہے۔غرض اس قسم کی چہ میگوئیوں کی بناء پر حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے کچھ سوالات حضرت خلیفتہ المسیح اول کی خدمت میں پیش کئے جن میں خلافت کے متعلق روشنی ڈالنے کی درخواست کی۔حضور نے یہ سوالات مولوی محمد علی صاحب کے پاس جواب دینے کے لئے بھیج دیئے ان کا جواب حضور کو حیرت میں ڈالنے کے لئے کافی تھا۔کیونکہ اس میں خلیفہ کی حیثیت کو ایسا گرا کر دکھایا گیا تھا کہ سوائے بیعت لینے کے اس کا کوئی تعلق جماعت سے باقی نہ رہتا تھا۔حضور نے ان سوالات کی نقول جماعتوں کو بھی بھجوا کر جواب طلب کئے اور ۲۱ جنوری ۱۹۰۹ ء کی تاریخ مقرر کی کہ اس دن مختلف جماعتوں کے قائمقام قادیان میں مشورہ کے لئے جمع ہوں۔اس موقعہ پر بیرونجات سے آنے والے اصحاب سے معلوم ہوا کہ انہیں یہ سمجھانے کی پوری کوشش کی گئی ہے کہ اصل جانشین انجمن ہی ہے خلیفہ صرف بیعت لینے کے لئے ہے جماعت سخت خطرہ میں ہے۔چند شریر اپنی ذاتی اغراض کو مد نظر رکھکر یہ سوال اُٹھا رہے ہیں اور جماعت کے اموال پر تصرف کر کے من مانی کارروائیاں کرنی چاہتے ہیں۔چنانچہ لاہور میں خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنے مکان پر ایک خاص جلسہ کر کے سب سے دستخط لئے اور محضر نامہ تیار کیا۔صرف دو دوستوں نے دستخط سے انکار کیا خوب تیاری کر کے خواجہ صاحب قادیان پہنچے۔چونکہ دین کا معاملہ تھا اور لوگوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ اس وقت اگر تمہارا قدم پھسلا تو جماعت ہمیشہ کے لئے تباہ ہوئی۔لوگوں میں سخت جوش تھا اور بہت سے لوگ اس کام کے لئے اپنی جان دینے کے لئے بھی تیار تھے۔اور بعض صاف کہتے تھے کہ اگر حضرت خلیفہ اسیج اول نے خلاف فیصلہ کیا تو انہیں اسی وقت خلافت سے علیحدہ کر دیا جائیگا۔باہر سے آنے والے خواجہ صاحب اور ان کے ساتھیوں کی تلقین کی وجہ سے