اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 306 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 306

306 محتاج نہیں ہوتے۔وہ تو بجائے خود ہر اس شخص پر احسان کرتے ہیں جس کو ان میں شمولیت کی تو فیق ملتی ہے۔قرآن کریم سورۃ الحجرت کے آخر میں فرماتا ہے يَمُنُّونَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوا قُلْ لَّا تُمُنُّوا عَلَى ۲۴۳ إِسْلَامُكُمْ بَلَ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلإِيمَانِ إِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ تا ثابت ہو کہ الہی سلسلوں کا مدار انسانوں پر نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی تائید ہی اس کے نشو ونما کا ذریعہ ہوتا ہے۔ہاں اس کا ظہور انسانوں کے لئے ہی ہوتا ہے۔بدقسمت انسان خدمت کا موقعہ پا کر اتراتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس مقام پر گرا دیتا ہے۔سو با بومحمد صاحب نے خط لکھا اور حضرت اقدس نے اس کا جواب دیا۔اس جواب کو پڑھ کر ایک سلیم الفطرت انسان کی روح بول اُٹھتی ہے کہ یہ شخص صادق اور مُرسل من اللہ ہے۔غرض وہ جواب جو حضرت نے دیا حسب ذیل ہے۔میری نسبت آپ نے کی جماعت کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا تھا کہ روپیہ کے خرچ میں بہت اسراف ہوتا ہے۔آپ اپنے پاس روپیہ جمع نہ رکھیں اور یہ روپیہ ایک کمیٹی کے سپر دہو جو حسب ضرورت خرچ کیا کرے۔اور یہ بھی ذکر تھا کہ اسی روپیہ میں سے باغ کے چند خدمتگار بھی روٹیاں کھاتے ہیں اور ایسا ہی اور کئی قسم کے اسراف کی طرف اشارہ تھا جن کو میں سمجھتا ہوں۔آپ نے اپنی نیک نیتی سے جو لکھا بہتر لکھا۔میں ضروری نہیں سمجھتا کہ اس کا رد لکھوں۔میں آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں جس کو پورا کرنا مومن کا فرض ہے اور اس کی خلاف ورزی معصیت ہے کہ آپ کی تمام جماعتوں کو اور خصوصاً ایسے صاحبوں کو جن کے دل میں یہ اعتراض پیدا ہوا ہے بہت صفائی سے اور کھول کر سمجھا دیں کہ اس کے بعد ہم۔۔۔۔کا چندہ بکتی بند کرتے ہیں اور ان پر حرام ہے اور قطعاً حرام ہے اور مثل گوشت خنزیر ہے کہ ہمارے کسی سلسلہ کی مدد کے لئے اپنی تمام زندگی تک ایک حتہ بھی بھیجیں ایسا ہی ہر شخص جو ایسے اعتراض دل میں مخفی رکھتا ہے اس کو بھی ہم یہی قسم دیتے ہیں۔یہ کام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جس طرح وہ میرے دل میں ڈالتا ہے خواہ وہ کام لوگوں کی نظر میں صحیح ہے یا غیر صحیح درست ہے یا غلط میں اسی طرح کرتا ہوں۔پس جو شخص کچھ مدد دے کر مجھے اسراف کا طعنہ دیتا ہے وہ میرے پر حملہ کرتا ہے ایسا حملہ قابل برداشت نہیں۔اصل تو یہ ہے کہ مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں اگر تمام جماعت کے لوگ متفق ہو کر چندہ بند کر دیں یا مجھ سے منحرف ہو جائیں تو وہ جس نے مجھ سے وعدہ کیا ہوا ہے وہ اور جماعت ان سے بہتر پیدا کر دے گا جو صدق اور اخلاص رکھتی ہوگی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے: بنصرك الله من عنده - ينصرك رجال نوحى اليهم من السماء یعنی خدا تیری اپنے