اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 288 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 288

288 یعنی ابراہیم علیہ السلام کی طرح میری اولاد بھی بے شمار ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرز پر جو نکاح ہوتا ہے یعنی تقوی پر جس کی بناء ہوتی ہے اس سے اولاد بے حساب اور پاکیزہ ہوتی ہے۔یہ تقویٰ کے فوائد ہیں ان آیتوں میں ان ہی فوائد کو کھول کر پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالے فرماتا ہے : يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةً اے لوگو تم اپنے اس رب کے لئے تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہیں ایک نفس اور سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے اس کے زوج کو پیدا کیا۔آگے فرمایا۔بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا تمہارے نکاح کی یہ غرض بھی ہو کہ تم تقویٰ اختیار کرو لیکن یہ بھی ہو کہ تم میں سے رجال اور نساء بھی ہوں اور تم سے یہ سلسلہ چلے لیکن یہ سلسلہ بھی تقویٰ کے نیچے ہو ، ورنہ کیا کفار کی اولاد نہیں ہوتی۔یا حیوانوں کی اولاد نہیں ہوتی اور ان سے سلسلہ نہیں چلتا۔پھر مسلمانوں اور دوسرے لوگوں اور حیوانوں میں فرق ہی کیا ہوا؟ مسلمانوں کا تو یہ کام ہے کہ نکاح تقویٰ کے تحت کریں تا کہ نیک اولاد پیدا ہو اسی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نکاح کرو اور ضرور کرو چنانچہ فرمایا: النکاح من سنتی فمن رغب عن سنتي فليس مني یعنی نکاح کرنا میری سنت ہے اور جو اس میری سنت سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔پس اگر کوئی تقویٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ملحوظ خاطر رکھ کر نکاح کرے تو بڑے فائدہ اور بڑے ثواب کا مستحق ہوگا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتنا كحو اوتوالد وا کہ نکاح کرو اور اولاد بڑھاؤ۔میں قیامت کے دن اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا۔اب ان اغراض اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقاصد کو مدنظر رکھ کر جو نکاح ہو بہت ہی بابرکت ہوگا۔اور بہت اچھی اولاد ہو گی۔خدا تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے۔نساء كُم حرث لكم عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں یعنی جیسے کاشتکار اپنی کھیتیوں میں پاکیزہ اور اعلیٰ درجہ کی پیداوار کاشت کرتا ہے تمہیں بھی اپنی ان کھیتیوں میں پاکیزہ پیداوار کے لئے کاشت کرنا چاہئے۔یعنی یہ کا شت تقویٰ کے طرز پر ہونی چاہئے۔اگر کوئی تقوی سے یہ کاشت کرے گا تو اس کی اولاد ضرور اعلیٰ درجہ کی ہوگی۔پھر خدا تعالیٰ نے عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے کے اور بھی کئی اغراض بیان فرمائے ہیں چنانچہ فرمایا هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ کہ وہ تمہارے لئے لباس کا فائدہ دیتی ہیں اور تم ان کے لئے لباس کا فائدہ دیتے ہولباس کا فائدہ بھی خدا تعالیٰ نے خود ہی بتا دیا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْ اتِكُمْ وَرِيْشًا کہ لباس سے انسان کی شرم گاہیں ڈھکی جاتی ہیں اسی طرح زن و مرد کے تعلقات کی وجہ سے بہت سے مرد اور عورت کی برائیاں ڈھانپی جاتی ہیں اگر یہ مرد و عورت کا تعلق نہ ہو تو ممکن ہے کہ وہ جذبات اور طبعی تقاضے جو مرد و عورت کو لگے ہوئے ہیں۔غلط طور پر استعمال کئے جائیں۔اور آنکھ زبان کان ہاتھ سے گذر کر انسان کو کبیرہ گناہ کا بھی مرتکب بنا دیں اور جب کوئی بدی ہوگی تو گویا وہ بدی کرنے ۲۲۵