اصحاب احمد (جلد 2) — Page 289
289 والا انسان ننگا ہو جائے گا کیونکہ ہر ایک گناہ کے سرزد ہونے سے انسان اسی طرح شرمندہ ہوتا ہے جس طرح کہ نگا ہونے سے شرمندہ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ان بدیوں کو ڈھانپنے کے لئے عورتوں کو مردوں کا لباس بنایا ہے اور یہ جذبات جو بدیوں کی طرف لے جاتے ہیں صرف مردوں کو ہی نہیں لگے ہوئے بلکہ عورتوں کو بھی لگے ہوئے ہیں اسی لئے جیسے عورتیں تمہارا لباس ہیں تم بھی ان کا لباس ہو اسی لئے یہ فرمایا تـسـاء لــون بـــه و الارحام اس میں یہ اشارہ ہے کہ کچھ عورت کے حقوق مرد پر ہیں اور کچھ مرد کے حقوق عورت پر ہیں۔پس تم آپس میں ایک دوسرے سے اپنے اپنے حقوق مانگ لو۔اس میں ایک دوسرا پہلو وہ بھی ہے جو جذبات سے تعلق رکھتا ہے وہ یہ کہ ان جذبات کا خاصہ ہے کہ وہ اپنے تقاضوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں کہ ایسا ایسا ہو۔ایسے وقت میں اگر کوئی انسان جذبات کی تحریک سے اپنے طبعی تقاضوں کو پورا کرنے کی خواہش کرے تو ممکن ہے کہ وہ جائز ہو یا نہ جائز۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے نکاح اس لئے رکھا ہے کہ مرد کی فطرت میں ان جذبات کے نیچے جو تقاضے پائے جاتے ہیں وہ ان کو عورت سے جائز طور پر مانگ لے اور جو عورت کی فطرت میں تقاضے ہیں وہ مرد سے مانگ لے۔نکاح کے موقعہ پر ایک اور آیت بھی پڑھی جاتی ہے جو سورۃ احزاب کے آخر میں ہے کہ یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوُ اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا یعنی ایمان والو تقوی اللہ کو اختیار کرو اور منھ سے بات کہو تو صاف اور سیدھی کہو بعض نکاح اس قسم کے ہوتے ہیں جن میں مبالغہ دھوکہ اور فریب کو کام میں لا کر اپنے فائدہ کی غرض سے دوسرے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے اس لئے فرمایا کہ تم جو یہ نکاح کا معاہدہ کرو تو یہ اس بناء پر ہو کہ سب سے پہلے تقویٰ تمہارے مد نظر ہو۔تقویٰ سب بُرائیوں کی جڑ کاٹتا ہے۔خدا تعالیٰ نے تقویٰ کا لفظ بیان فرما کر پھر اس کی تائید میں کئی اور الفاظ اور آیتیں ساتھ رکھی ہیں، ان ہی میں سے ایک یہ آیت ہے فرمایا اس معاملہ میں بیچ دار طبیعت کے ساتھ مغالطہ اور خطرناک طرز عمل اختیار نہ کرو بلکہ بہت صاف اور سیدھی اور وہ بات جوحسن معاشرت اور حسن معاملت کے اعلی پیمانہ پر قائم ہو وہ کہو نہ کہ پیچیدہ ، دھوکہ دینے والی اور شریعت کے خلاف، پھر فرمایا اس کے فوائد یہ ہوں گے کہ یصلح لکم اعمال لكم ويغفر لكم ذنوبكم تمہارے اعمال کو جو تقوی اور زبان کی راستی کے نیچے ہوں گے ان کی اصلاح کی جائے گی دنیا میں فساد تقویٰ کے چھوڑنے اور زبان کی ناراستی کی وجہ سے ہوتے ہیں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں اس شخص کے بہشت میں جانے کے لئے ضامن ہوتا ہوں جو دو چیزوں کو قابو میں رکھے ایک زبان کو دوسرے وہ جو دونوں رانوں کے درمیان ہے واقعہ میں انسان سے جس قدر شرور سیات اور جرائم سرزد ہوتے ہیں ان کا بہت بڑا ذریعہ یہی