اصحاب احمد (جلد 2) — Page 283
283 رکھتے تھے بلکہ جری اللہ فی حلل الا بنبیاء علیہم السلام کی شان کے حامل تھے جیسا کہ حضرت مسیح موعود کے الہام كتب الله لا غلبن انا ورسلی سے ظاہر ہے۔چنانچہ اس کی تشریح میں حضرت صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ : بقیہ حاشیہ :- قابل ہیں کہ یہاں درج کر دی جائیں تحریر فرماتے ہیں : نحمده و نصلى على رسوله الكريم بسم الله الرحمن الرحيم یا ابنی سلمکم اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم۔اب تک تم اور زندگی میں تھے اور اب اور زندگی اختیار کرنے والے ہو اور نیا علم تمہیں سیکھنا ہے اس لئے چند امور کا لکھنا میں ضروری سمجھتا ہوں اور میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ تم کو بعض امور سے خبر دار کر دوں اب تمہاری شادی ہونے والی ہے اور تاہل کے جوئے میں آنے والے ہو، دنیا کی گاڑی تاہل سے چلتی ہے جس میں میاں بیوی جو تے جاتے ہیں پس اگر ایک بیل کا ندھا ڈال دے تو گاڑی چلنی مشکل ہے اس لئے اس معاملہ میں خود کہنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔پہلے میں وہ تحریر کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ علیم وخبیر نے فرمایا ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کون ہمیں بتلا سکتا ہے اور پھر سنت محمد مصطفے صلحم سے بڑھ کر ہمارے لئے کونسا اُسوہ ہو سکتا ہے۔لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔پیشتر اس کے کہ میں تاہل کے متعلق کچھ تحریر کروں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ پہلے یہ بتلاؤں کہ انسان کے پیدا کرنے کی اللہ تعالیٰ نے کیا غرض بتلائی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ غرض خلقت جن وانس کی عبادت بتلائی ہے یعنی انسان کی پیدائش کی غرض عبادت ہے اس کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرے اسلام بھی اسی کا مترادف ہے کیونکہ اسلام کے معنی بھی فرماں برداری کے ہیں چنانچہ حضرت ابرا ہیم کو اللہ تعالے فرماتا ہے۔اسلم فرماں بردار بن جاوہ مقدس وجود جواب میں فرماتا ہے اسلَمُتُ میں فرماں بردار بن گیا۔چونکہ غرض پیدائش انسان فرماں برداری اللہ تعالیٰ ہے اور فرماں برداری دو طرح ہی ہوتی ہے ایک بجبر اور ایک بحجبت جو فرمانبرداری جبر سے کرائی جاتی ہے وہ اصلی نہیں ہوتی اور جب موقعہ لگتا ہے ایسے لوگ جو جبر سے مطیع کئے جاتے ہیں اطاعت کو چھوڑ دیتے ہیں۔مگر جو لوگ اپنی نشاط طبع اور دلی میلان اور محبت سے اطاعت کرتے ہیں ان کی اطاعت مستحکم ہوتی ہے اور وہ فرماں برداری پوری طرح سے کرتے ہیں اسی لئے انبیاء کو اللہ تعالی خوش خلقی کی ہدایت فرماتا ہے چنانچہ قرآن شریف میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے کہ اگر تو بد مزاج اور سخت دل ہوتا تو تیرے قریب بھی کوئی نہ پھٹکتا اور فرمایا کہ مومنوں کے لئے اپنے کاندھے جُھکا دے اور یہی وجہ ہے کہ شریعت میں جبر و اکراہ نہیں رکھا تا لوگ محبت قلبی سے انبیاء کی اطاعت کریں اور شریعت کو نشاط طبع کے ساتھ اختیار کریں لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ : اور اگر جبر سے اطاعت کرائی جائے تو پھر اطاعت کرنے والے میں عمدہ اخلاق نہیں پیدا ہو سکتے اور نہ وہ ترقی کر سکتا ہے۔دیکھ لوغلاموں میں