اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 263 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 263

263 کہ حضور نے دریافت فرمایا ہے کہ زینب کے رخصتانہ کے متعلق اتنی ہی بات ہے جتنی پہلے طے ہو چکی ہے یا کیا۔اس سوال سے مجھ کو تین خیال گزرے۔۱۔یہ کہ حضور اس قرارداد سے قبل رخصتا نہ چاہتے ہیں۔۲۔یہ کہ حضور نے مزید تاکید کے لئے ان کو بھیجا ہے اس وقت پر رخصتا نہ ہو جائے۔۳۔یہ کہ حضور کچھ اور مہلت عطا فرمانا چاہتے ہیں۔میں نے پیر جی سے دریافت بھی کیا کہ اس کا کیا منشا ہے تو انہوں نے سوائے اس کے کوئی روشنی نہ ڈالی کہ شاید حضور جلدی رخصتانہ چاہتے ہیں۔چونکہ کوئی صاف بات پیر جی نے نہیں کہی۔اس لئے میں نے عرض کیا کہ میں خود حضور کی خدمت ( میں ) تحریر ا عرض کروں گا۔میں برابر سوچتا رہا۔مگر کوئی صاف بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔پس یہ تین باتیں جو میری سمجھ میں آئی ہیں ان کی بابت عرض ہے مگر پیشتر اس کے کچھ عرض کروں اصولاً یہ عرض ہے اول تو نکاح کے بعد لڑکی پر میکے والوں کا کوئی زور ہوتا ہی نہیں۔سسرال والے جب چاہیں لے جاسکتے ہیں۔میکے والوں کو اس امانت کے ادا کر نے میں عذر ہو ہی نہیں سکتا۔پس جب عام قاعدہ یہ ہے تو پھر حضور کے معاملہ میں تو یہ حالت ہے جب سے بیعت کی ہے معہ جان، مال، عزت اپنے آپ کو بیچ چکا ہوں۔حضور پر سب کچھ قربان ہے اور ہرج ہو یا نہ ہو۔نفع ہو یا نقصان ہر حالت میں حضور کے حکم کی فرماں برداری فرض ہے بلکہ اس میں دل میں بھی کچھ ہرج رکھنا گناہ۔تو پھر ایسی حالت میں کیا عرض کر سکتا ہوں۔میں نے جو کچھ عرض کرنا ہو گا وہ بھی حضور ہی کو سوچنا ہے اور جو نہیں عرض کرنا وہ بھی حضور ہی کے سپرد۔میری اپنی رائے کسی بھی معاملہ میں اپنی نہیں۔میں تو حضور کے حکم پر ہی چلنا چاہتا ہوں۔پس جب ہر معاملہ میں یہ حال ہے تو پھر اس معاملہ میں بھی حضور ہی جو حکم صادر فرمائیں گے وہی صائب ہوگا مگر چونکہ حضور نے دریافت فرمایا ہے اس لئے الامر فوق الادب عرض ہے۔۱۔اوّل معاملہ میں کہ اگر حضور رخصتانہ قبل چاہتے ہیں تو عرض ہے کہ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ حضور کو ہر وقت اختیار ہے کہ جب چاہیں رخصت نہ کرا لیں اگر حضور فرما ئیں تو ان ہی کپڑوں میں رخصت کر دوں۔مگر اگر حضور کا خیال ہو ( کہ جس طرح حضور نے اس دفعہ میرے حاضر ہونے پر فرمایا تھا کہ ہمارا منشا اس سے یہ ہے کہ آپ کو اطلاع دیدیں کہ آپ رخصتانہ کی تیاری کرلیں ہم مکان بنوائیں گے اور اس میں پانچ چھ ماہ گزرجائیں گے ) کہ میں نے تیاری کر لی ہوگی۔سو اس میں عرض ہے کہ میں اب تک کوئی تیاری نہیں کرسکا۔پس یہ حضور کا رحم اور عنایت ہوگی پہلے کی طرح مجھے مہلت ہو۔حضور میری ابتلاؤں سے واقف ہیں اگر مجھ کو اس وقت جلدی کا خیال ہوتا تو میں جس طرح ہوتا خواہ کتنی تکلیف ہوتی تو بھی تیاری کرتا۔کیونکہ حضور کے حکم میں تکلیف عین راحت ہے۔مگر پھر بھی مجھ کو اس وقت پر حضور کے حکم کی تعمیل کرنی ہے خواہ کچھ ہو۔