اصحاب احمد (جلد 2) — Page 264
264 -٣ ۲۔رہی دوسری بات کہ حضور نے بطور یاد دہانی اور تاکید یہ فرمایا تا کہ اس وقت رخصت ہو جائے تو عرض ہے کہ حضور کا اس وقت کا حکم سوتا کید کی ایک تاکید تھا۔میں اسی دن سے دن رات اسی فکر میں ہوں۔رہا تیسرا امر کہ حضوڑا اپنے رحم اور فضل سے مجھ کو اس معاملہ میں اور مہلت عنایت فرمانا چاہتے ہیں اور ان ابتلاؤں کے زمانہ میں کچھ سہولت محض اس ہمدردی کی وجہ سے جو حضور کو مجھ سے ہے دینا چاہتے ہیں تو نہایت عجز اور ابتہال سے عرض ہے کہ اگر ایسا ہو تو حضور کی نہایت ہی بندہ نوازی ہو کیونکہ اس طرح سب معاملہ سہولت سے طے ہو اور مجھ کو دقت پیش نہ آئے۔زینب کی صحت بھی چھ ماہ سے بہت خراب ہو رہی ہے اس میں بھی کچھ خداوند تعالیٰ عافیت کی صورت نکال دے اور میں بھی انتظام کافی کرسکوں۔بہر حال یہ عرض سب محض تعمیل حکم ہے ورنہ میری پہلی عرض ہے کہ ؎ سپردم بتو مایه خویش را اور میری ابتلاؤں اور تکالیف کا بھی حضور کو ہی خیال ہے۔تو دانی حساب کم و بیش را راقم محمد علی خاں اس کے جواب میں حضرت اقدس علیہ السلام نے حسب ذیل مکتوب ارسال فرمایا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔یہ تجویز آپ کی خدمت میں اس لئے پیش کی گئی تھی کہ فی التاخیر آفات “ کا مقولہ یاد آتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ میں نے بعض خواہیں دیکھی ہیں اور بعض الہام ہوئے ہیں جن کا میں نے مختصر طور پر آپ کی خدمت میں کچھ حال بیان کیا تھا اگر میرے پاس زینب ہو تو دعا کا موقعہ ملتا ر ہے گا۔میں دیکھتا ہوں کہ لڑکا بھی جوان ہے۔ابھی مجھے نیا مکان بنانے کی گنجائش نہیں اسی مکان میں میں نے تجویز کر دی ہے لیکن چونکہ تجربہ سے ثابت ہے کہ اگر لڑکیاں والد کے گھر سے سرسری طور سے رخصت ہوں تو ان کی دل شکنی ہوتی ہے اس لئے میں اس وقت تک جو آپ مناسب سمجھیں اور رخصت کے لئے تیاری کر سکیں مہلت دیتا ہوں۔مگر آپ اس مدت سے مجھے اطلاع دے دیں۔میرے نزدیک دنیا کے امور اور اُن کی الجھنیں چلی جاتی ہیں لڑکیوں کی رخصت کو ان سے وابستہ کرنا مناسب نہیں ہے۔والسلام۔مراز غلام احمد نواب صاحب کی مہلت طلبی پر رخصتانہ کے لئے مہلت ملنا اس کے جواب میں نواب صاحب نے جو خط لکھا درج ذیل ہے۔