اصحاب احمد (جلد 2) — Page 221
221 میں سے ہے۔اللہ تعالے اکے علم میں تو یہ مقام حضرت سیدہ مبارکہ صاحبہ کے لئے تھا اور اس وقت حضرت اقدس کے بھی وہم و گمان میں نہ تھا ورنہ حضرت فضل الہی صاحب کی سالی کے رشتہ پر زور نہ دیتے مگر آگے چل کر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تقدیر کا ظہور ہوا اور بہت مبارک ہوا۔‘“ مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب کا بیان ہے کہ نواب صاحب ہمیشہ فرماتے جو قرآن کریم نے فہرست اقارب پردہ کے تعلق میں پیش کی ہے اس پر عمل کرنا فرض ہے جب والدہ صاحبہ زندہ تھیں تو اول تو وہ خود گھر سے باہر جانا پسند نہ کرتی تھیں اور آپ بھی ان کو رشتہ داروں کے ہاں جانے سے احتراز کی تلقین کرتے لیکن اگر کبھی ضرورت ہوتی اور شیروانی کوٹ وغیرہ جانا ہوتا تو گاڑی میں بٹھا کر اسے قفل لگواتے پھر ایک بہت بڑی چادر سے گاڑی کو لپیٹ دیا جاتا۔اور ایک جمعدار کو اس کی چابی دی جاتی جو کو چوان کے علاوہ اسی کام کے لئے مقرر ہوتا۔خالہ امتہ الحمید بیگم صاحبہ بھی اسی طرح پردہ کرتیں۔ایک دفعہ خالہ جان لاہور گئیں تو گاڑی کے ڈبے سے اتارتے وقت بہت بڑی چاندنیاں استعمال کی گئیں جو ڈبے کے اوپر سے پلیٹ فارم پر ڈولی تک تان دی گئیں اور اس پر دہ تلے وہ ڈولی میں سوار ہوئیں۔اسی طرح پہلی دفعہ جب قادیان آئیں تو ڈبہ ریز رو تھا۔جب بٹالہ اسٹیشن پر باہر آنے لگیں تو اسی طرح پردہ کر کے اتار کر فینس بلا میں سوار کیا گیا۔اور اوپر سے چادر میں لپیٹ دی گئیں۔مجھے بھی خالہ جان کے ہمراہ اس میں سوار کیا گیا تھا۔باوجو د موسم سرما کی سردی کے میرا اس جس میں گرمی سے بُرا حال ہوا۔اور میں نے چلتی فمینس سے نیچے چھلانگ لگا دی۔پردہ کے تشدد کی وجہ نواب صاحب کا پردہ کے بارے میں تشد د بلا وجہ نہ تھا۔مالیر کوٹلہ میں اقارب خلیج الرسن ہو کر ہر قسم کی رنگ رلیوں میں مشغول ہو چکے تھے اور زمانہ کا رنگ اچھا نہ تھا بعض اقارب کنچنیاں رکھتے تھے اور ان کے ملاقاتی آتے تو کنچنوں کی موجودگی میں بے حجابانہ ان سے ملتے اور ہنسی مذاق ہوتا۔نواب صاحب کی تقوی شعاری اور ایسے امور سے اجتناب کا ان لوگوں پر گہرا اثر تھا۔اور باوجود یکہ یہ لوگ خاندانی لحاظ سے بزرگوں کا درجہ رکھتے تھے۔مگر کیا مجال کہ ان عورتوں کی موجودگی میں نواب صاحب سے ملاقات کریں۔مگر میاں محمد عبداللہ خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ چونکہ دوسرے اقارب کے بُرے چال چلن کی وجہ سے والد صاحب شکرم کی طرز کی گاڑی جس کو آٹھ کے قریب کہا ر ا ٹھاتے ہیں۔