اصحاب احمد (جلد 2) — Page 220
220 انتہائی کوشش کی۔چنانچہ آپ کا بیان ہے کہ: ” میری دوسری بیوی کے انتقال پر حضرت نے بتوسل حضرت مولانا (مولوی) نورالدین صاحب شیخ فضل الہی صاحب سوداگر راولپنڈی کی سالی سے میرا رشتہ کرنا چاہا مجھے یہ رشتہ پسند نہ تھا کیونکہ مجھے ان کے اقربا اچھے نہ معلوم ہوتے تھے۔مگر حضرت کو یہ رشتہ بہت پسند تھا۔زور دیا۔شیخ فضل الہی صاحب نے خود یہ بات اٹھائی کہ وہ ان کی سالی بہنوئیوں سے پردہ نہ کرے گی اور سخت پردہ کی پابندی نہ ہوگی (میرے متعلق کہا ) کہ نواب صاحب سنا جاتا ہے پردہ میں سختی کرتے ہیں۔حضرت میرے پاس میرے مکان پر خود تشریف لائے اور فرمایا کہ وہ یہ کہتے ہیں میں نے عرض کی قرآن شریف میں جو فہرست دی گئی ہے میں اس سے تجاوز کرنا نہیں چاہتا۔فرمانے لگے کہ کیا بہنوئی سے بھی پردہ ہے میں نے عرض کیا کہ حضور مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔جہاں تک مجھے معلوم ہے قرآن شریف کی فہرست میں بہنوئی نہیں چنانچہ آپ خاموش ہو گئے۔اور پھر اس رشتے کے متعلق آپ نے کچھ نہیں فرمایا اور شیخ صاحب چلے گئے مکرم عرفانی صاحب اس بارہ میں فرماتے ہیں کہ در شیخ فضل الہی صاحب مع اپنے اہل وعیال کے قادیان آئے تھے اور بڑے ٹھاٹھ سے رہتے تھے۔حضرت اقدس کو ان کی خاطر منظور تھی اور وہ لڑکی بڑی خوب صورت مگر کسی قدر آزاد طبیعت نئے تمدن اور ماحول کی وجہ سے تھی اس لئے ایسی صورت پیش آئی۔اس رشتہ میں نواب صاحب کی ناپسندیدگی کے وجوہات پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں مگر ایک بات جو ان کی پاکیزہ فطرتی پر دلالت کرتی ہے اس کا ذکر نہ کرنا ایک ظلم ہوگا۔لڑکی نہایت خوب صورت۔خاندان دنیوی حیثیت سے ممتاز۔مگر نواب صاحب کے مد نظر اگر یہ چیزیں ہوتیں تو ضرور پسند کرتے مگر ان کے زیر نظر تو دین اور صرف دین تھا اور وہ بات من وجہ موجود نہ تھی علاوہ ازیں یہ امر سرار الهیة یہ نواب صاحب کی روایت کے اصل لفاظ ہیں تغییر الفاظ یہ روایت الفضل مورخہ ۳۸-۶-۱۴ میں شائع ہو چکے ہیں شیخ صاحب خلافت ثانیہ کے قیام پر جماعت سے وابستہ نہیں ہوئے اور اب فوت ہو چکے ہیں۔