اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 202 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 202

202 معافی چاہیں چنانچہ انہوں نے ایک پر چہ اپنے حال کا لفافہ میں رکھ بھیجا ہے تا کہ حضور کی خدمت میں پیش کروں پس اب عرض ہے بقول بر ما منگر پر کرم خویش نگر از خورداں خطا واز بزرگان عطا آپ میری بیوی کا یہ قصور معاف فرما دیں۔راقم محمد علی خاں جوا با حضور نے رقم فرمایا: مجی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔جو کچھ میں نے رنج ظاہر کیا تھا وہ درحقیقت ایسا ہی تھا جیسا کہ باپوں کو اپنی اولاد کے ساتھ ہوتا ہے چونکہ میں تربیت کے لئے مامور ہوں سو میری فطرت میں داخل کیا گیا ہے کہ میں ایک معلم ناصح اور شفیق مربی کی طرح اصلاح کی غرض سے کبھی رنج بھی ظاہر کروں اور خطا کو معاف نہ کرنا خود عیب میں داخل ہے۔اس لئے میں پورے دل کی صفائی سے اس خطا کو معاف کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ خدا آپ کو اور آپ کے اہل بیت کو اپنے فضل سے کچی پاکیزگی اور کچی دینداری سے پورے طور پر متمتع فرمائے۔آمین ثم آمین اور اپنی محبت ۱۴۳ اور اپنے دین کی التفات عطا فرمائے۔آمین۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی۔نواب صاحب نے اس واقعہ کو ڈائری میں تحریر کیا ہے کہ حضور علیہ السلام۔۔۔سخت بیمار ہو گئے پہلے مرض درد گردہ تصور کی گئی مگر بعد میں معلوم ہوا کہ ریاحی اور عصبی درد تھا جس کو گردہ سے کوئی تعلق نہ تھا، اس مرض کے ایام ( میں ) ہم لوگ برابر دعاؤں ( میں ) مشغول رہے اور جب موقعہ ملتا تھا میں عیادت کے لئے جاتا رہا۔مگر میرے گھر سے چند وجوہات سے نہ گئے اول وجہ یہ تھی کہ میں نے ان کوتاکید کی ہوئی تھی کہ ان کے سامنے نہ ہوں۔کیونکہ وہ اب بالغ ہیں اور۔۔میرے گھر سے بندش کے عادی تھی (۲)۔میرے گھر سے گو تحریری بیعت کر چکے ہیں مگر میری بد اعمالی کی وجہ سے میرا اثر ان پر پورا نہیں ہو سکا۔اس لئے ایک حد تک کیا بلکہ جہاں تک مجھے خیال ہے وہ معتقد نہیں اور نہ اب تک ہیں ، ان کے خیالات نہایت سطحی ہیں میں نے کئی دفعہ سمجھانا چاہا مگر ان کی عقل میں کچھ نہیں آیا کچھ۔۔۔بے تعلقی کی وجہ سے وہ نہ گئے۔(۳)۔چونکہ وہ پہلے سے کسی جگہ جانے کے عادی نہ تھے اور عورتوں میں جاتے شرم ان کو آتی تھی ، ایک یہ وجہ رکاوٹ (کی ) ہوئی۔۔۔بہر حال ایسے وجو ہات پیش آئے کہ وہ عیادت کے لئے نہ جاسکیں اور اس سے حضور علیہ السلام کو رنج ہوا۔حضور مجھ پر بھی ناراض ہوئے۔تین ماہ تک عہد کر لیا کہ دروازہ جس ( سے ) حضور علیہ السلام کی طرف سے عورتیں آتی جاتی تھیں بند کر دیا اور اس کو قفل لگوا دیا آخر