اصحاب احمد (جلد 2) — Page 203
203 میں نے جا کر معذرت کی اور حضور علیہ السلام نے معاف فرما دیا مگر دروازہ تین ماہ تک بند رہا تین ماہ کے بعد دروازہ کھلا پھر میری بیوی نے ایک خط عذر تقصیر بھیجا اور حضور علیہ السلام نے ان کو بھی معاف فرما دیا۔معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ حضور نے یہ خیال فرمایا ہوگا کہ مرحومہ کو شفقت کی پوری طرح قدر نہیں ہوگی اس کا احساس دلانے کے لئے معاف کر دینے کے باوجود تین ماہ تک حضور نے دروازہ بند رکھا ہوگا بعد کے واقعات اور بیگم صاحبہ محترمہ کے حسنِ خاتمہ نے ظاہر کر دیا کہ حضور کی توجہ نتیجہ خیز ثابت ہوئی ایسا ہی ایک واقعہ ۱۹۰۳ ء یا ۱۹۰۴ء کا ہے جس کا علم حضور کے ایک مکتوب نمبر ۶۴ سے بھی ہوتا ہے۔جو بیگم صاحبہ کے نام ہے۔حضور تحریر فرماتے ہیں: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده على رسوله الكريم السلام علیکم رحمۃ اللہ و بر کاتہ۔خط میں نے پڑہا۔اصل بات یہ ہے کہ اس بات کے معلوم ہونے سے کہ جس قدر بوجہ ہمسائیگی ہمدردی ضروری ہے وہ آپ سے ظہور میں نہیں آئی یعنی والدہ محمود جو قریباً دس ماہ تک تکالیف حمل میں مبتلا رہیں اور جان کے خطرہ سے اللہ تعالیٰ نے بچایا اس حالت میں اخلاق کا تقاضا یہ تھا کہ آپ سب سے زیادہ ایسے موقعہ پر آمد ورفت سے ہمدردی ظاہر کرتے اور اگر وہ موقعہ ہاتھ سے گیا تو عقیقہ کے موقعہ پر برادرانہ تعلق کے طور پر آنا ضروری تھا بلکہ اس موقعہ پر کم تعلق والی عورتیں بھی مبارکباد کے لئے آئیں مگر آپ کی طرف سے ایسا دروازہ بند رہا گویا سخت ناراض ہیں اس سے سمجھا گیا کہ جب کہ اس درجہ تک آپ نواب صاحب نے موسم گرما ۱۹۰۲ء میں ڈائری نہیں لکھی یکم نومبر ۱۹۰۲ء کی ڈائری کی موقوفی کی وجوہات تحریر کر کے اس عرصہ کے بعض واقعات تحریر فرمائے ہیں ان میں مندرجہ بالا بھی ہے۔بعض قرائن دونوں کے علیحدہ واقعات ہونے پر دلالت کرتے ہیں مثلاً ڈائری میں (۱) حضرت اقدس کی علالت کا ذکر ہے۔(۲) بیگم صاحبہ کی علالت کا ذکر نہیں۔(۳) بیگم صاحبہ کی طرف سے دروازہ بند کئے جانے کا ذکر نہیں (۴) یہ ذکر ہے کہ معذرت پر معافی دینے پر بھی دروازہ تین ماہ تک بند رہا۔لیکن حضور کے مکتوب نمبر ۴۲ میں (۱) حضرت ام المومنین اطال الله بقاء ہا کی علالت کا ذکر ہے (۲) بیگم صاحبہ کی طرف سے پہلے دروازہ بند ہونے کا ذکر ہے (۳) بیگم صاحبہ کی شدید علالت کا ذکر ہے ان کی وفات ۱۹۰۶ء میں ہوئی تھی اور ڈائری والا واقعہ ۱۹۰۲ ء کا ہے (۴) مکتوب میں عذر ہونے پر حضور کی طرف سے دروازہ کھلوا دینے کا ذکر ہے۔مزید غور کرنے سے معلوم ہوا کہ حضور کے مکتوب میں ایک بچہ کی ولادت کا ذکر ہے۔۱۹۰۲ء میں حضور کے ہاں کوئی ولادت نہیں ہوئی البتہ ۱۹۰۲ء میں صاحبزادی امتہ النصیر صاحبہ اور ۱۹۰۴ء میں صاحبزادی امتہ الحمید بیگم صاحبہ کی ولادت ہوئی اس لئے یہ مکتوب ان دونوں سالوں میں سے کسی ایک موقعہ کا ہے۔کیونکہ مرحومہ قادیان ۱۹۰۱ء میں آئی تھیں۔