اصحاب احمد (جلد 2) — Page 126
126 تو کل کر کے قادیان آ جاویں۔میں تو دن رات دعا کر رہا ہوں اور اس قدر زور اور توجہ سے دعائیں کی گئی ہیں کہ بعض اوقات میں ایسا بیمار ہو گیا کہ یہ وہم گذرا کہ شاید دو تین منٹ جان باقی ہے اور خطر ناک آثار ظاہر ہو گئے۔اگر آتے وقت لاہور سے ڈس انفیکٹ کے لئے کچھ رس کپورا اور کسی قدر فینائل لے آویں اور کچھ گلاب اور سر کہ لے آویں تو بہتر ہوگا۔والسلام -Y خاکسار مرزا غلام احمد ۶ را پریل ۱۹۰۴ء نحمده ونصلى على رسوله الكريم بسم الله الرحمن الرحيم مجی عزیزی نواب صاحب سلمہ۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکانہ۔عنایت نامہ مجھ کو ملا۔الحمد الله والمنته کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے عزیزی عبدالرحمن خان کو صحت بخشی۔گویا نئے سرے زندگی ہوئی ہے اب میرے نزدیک تو یہی بہتر ہے کہ جس طرح ہو سکے قادیان میں آجائیں لیکن ڈاکٹر کا مشورہ ضروری ہے۔کیونکہ مجھے دور بیٹھے معلوم نہیں کہ حالات کیا ہیں اور صحت کس قدر ہے؟ بظاہر اس سفر میں چنداں تکلیف نہیں کیونکہ بٹالہ تک تو ریل کا سفر ہے اور پھر بٹالہ سے قادیان تک ڈولی ہوسکتی ہے۔اور گوڈولی میں بھی کسی قدر حرکت ہوتی ہے۔لیکن اگر آہستہ آہستہ یہ سفر کیا جائے تو بظاہر کچھ حرج معلوم نہیں ہوتا۔اور قادیان کی آب و ہوا بہ نسبت لاہور کے عمدہ ہے آپ ضرور ڈاکٹر سے مشورہ لے لیں اور پھر ان کے مشورہ کے مطابق بلا توقف قادیان میں چلے آویں باقی اس جگہ زور طاعون کا بہت ہو رہا ہے۔کل آٹھ آدمی مرے تھے۔اللہ تعالیٰ اپنا فضل و کرم کرے آمین۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۱۶ اپریل ۱۹۰۴ء 1 نحمده ونصلى على رسوله الكريم بسم الله الرحمن الرحيم مجی عزیزی نواب صاحب سلمہ اللہ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاته - الـحـمـد لله والـمـنـتــه عزیز عبدالرحمن خاں صاحب کی طبیعت اب روبہ صحت ہے۔الحمد لله ثم الحمد الله۔اب میرے نزدیک (واللہ اعلم ) مناسب یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر مشورہ دیں تو عبدالرحمن کو قادیان میں لے آویں۔اس میں آب و ہوا کی تبدیلی بھی ہو جائے گی۔ریل میں تو کچھ سفر کی تکلیف نہیں۔بٹالہ سے ڈولی کی سواری ہوسکتی ہے۔بظاہر بات تو یہ عمدہ ہے، تفرقہ دور ہو جائے گا۔اس جگہ قادیان میں آج کل طاعون کا بہت زور ہے۔اردگرد کے دیہات تو قریباً ہلاک ہو چکے ہیں۔باقی اس جگہ سب خیریت ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ