اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 127 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 127

127 -۷ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ۔آپ کا خط آج کی ڈاک میں پہنچا۔پہلے اس سے صرف بہ نظر ظاہر لکھا گیا تھا۔اب مجھے یہ خیال آیا ہے کہ تو کلا علیٰ اللہ اس ظاہر کو چھوڑ دیں۔قادیان ابھی تک کوئی نمایاں کمی نہیں ہے۔ابھی اس وقت جو لکھ رہا ہوں ایک ہند و پیج ناتھ نام جس کا گھر گویا ہم سے دیوار به دیوار ہے چند گھنٹہ بیمار رہ کر راہی ملک بقا ہوا۔بہر حال خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کر کے آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ آپ بخیر و عافیت تشریف لے آویں۔شب بیداری اور دلی تو جہات سے جو عبدالرحمن کے لئے کی گئی میرا دل و دماغ بہت ضعیف ہو گیا ہے۔بسا اوقات آخری دم معلوم ہوتا تھا یہی حقیقت دعا ہے۔کوئی مرے تا مرنے والے کو زندہ کرے یہی الہی قانون ہے۔سو میں اگر چہ نہایت کمزور ہوں لیکن میں نے مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ آپ جب آویں تو پھر چند روز درد انگیز دعاؤں سے فضل الہی کو طلب کیا جائے۔خدا تعالیٰ صحت اور تندرستی رکھے۔سو آپ بلا توقف تشریف لے آویں۔اب میرے کسی اور خط کو انتظار نہ کریں۔قادیان میں مکان بنانے کی تحریک والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ١٠٢ حضرت اقدس نے نواب صاحب کو بار بار قادیان آنے کی ترغیب کے علاوہ قادیان میں مکان بنانے کی بھی تحریک فرمائی تھی۔چنانچہ حضور اپریل ۹۹ء میں تحریر فرماتے ہیں: بسم الله الرحمن الرحيم ۱۸ / اپریل ۱۸۹۹ء نحمده ونصلى على رسوله الكريم مجھی اخویم نواب صاحب سلّمۂ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، عنایت نامہ پہنچا۔اگر چہ آں محبت کی ملاقات پر بہت مدت گزرگئی ہے اور دل چاہتا ہے کہ اور دوستوں کی طرح آپ بھی تین چار ماہ تک میرے پاس رہ سکیں لیکن اس خانہ داری کے صدمہ سے جو آپ کو پہنچ گیا ہے بڑی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔یہ روک کچھ ایسی معلوم نہیں ہوتی کہ ایک دو سال تک بھی دور ہو سکے بلکہ یہ دائمی اور اس وقت تک ہے حمد مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب حضرت اقدس کی شفقت کا ان الفاظ سے ذکر کرتے ہیں کہ والد صاحب مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب کو جب حضور کے ارشاد پر قادیان لائے تو رات کے ساڑھے تین بجے کا وقت تھا۔حضرت اقدس اس وقت تشریف لائے اور حال دریافت فرماتے رہے اور کچھ دیر بیٹھے رہے۔