اصحاب احمد (جلد 2) — Page 104
104 میں نور پیدا ہوتا ہے تو آسمانی نور بھی نازل ہوتا ہے۔آپ کا قلب صافی صحبت صالحین کے شوق میں بار بار حضرت مولوی نورالدین صاحب کو مالیر کوٹلہ آنے کی تحریک کرتا تھا۔حضرت نواب صاحب کا نور قلب حضرت اقدس علیہ السلام کی تو جہات شفقت اور دعاؤں کے لئے جاذب ہوا اور اللہ تعالے نے اپنے فضل سے حضرت نواب صاحب کے لئے تمام مشکلات سہل کر دیں۔اور انشراح قلب کے ساتھ ہجرت کا عزم کر لینے کی توفیق ارزاں کی لیکن جب تک آپ کا قادیان ہجرت کر آنا متعذر رہا۔آپ المکتوب نصف الملاقات سے کماحقہ فائدہ اٹھاتے رہے۔چنانچہ حضرت اقدس کے علاوہ دیگر بزرگانِ کرام سے بھی آپ کی خط و کتابت تھی اور ان سب کی طرف سے آپ کو ترغیب حسنات کی جاتی۔سلسلہ کے حالات سے آگاہ کیا جاتا۔ایک عرصہ تک نواب صاحب نے اپنے نمائندہ کے طور پر اپنے ملازم مرزا خدا بخش صاحب کو قادیان بھیجا تا کہ حضرت اقدس کی خدمت میں دعاؤں کی تحریک ہوتی رہے اور قادیان کے حالات کی اطلاع بھی آتی رہے۔اور بعض اوقات حضرت اقدس بھی بطور نمائندہ مرزا صاحب کو بلوا لیتے تھے یہ چنانچہ حضور ۱۸ را پریل ۱۸۹۹ء کو حضرت نواب ذیل میں احباب کے علم کے لئے اور فائدہ کے لئے ان ایام کے مکتوبات درج کر دئے جاتے ہیں ان میں بعض غیر مطبوعہ رویا بھی ہیں اور وعظ ونصیحت وغیرہ بھی۔مرزا خدا بخش صاحب کے متعلق سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں کہ نواب صاحب نے بطور نمائندہ انہیں قادیان میں بھیجا تھا۔وہ سال بھر قادیان میں رہے۔حضرت اقدس کے حالات نواب صاحب کو لکھا کرتے تھے۔انہیں ساٹھ روپے مشاہرہ ملتا تھا جو اس زمانہ کے لحاظ سے بہت بڑی رقم تھی ان کو حضرت اقدس نے سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ والے حصہ میں دار امسیح میں ٹھہرنے کے لئے جگہ دی اور ان کا خاص خیال رکھتے تھے اور یہ سب احترام نواب صاحب کی وجہ سے تھا اور بعد میں بھی یہی امر مرزا صاحب کے ابتلا کا موجب بنا کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان میں کوئی خاص خوبی پائی جاتی ہے۔یہ چونکہ ان کا بعد میں حال ہوا اس لئے پہلے کے ایام کے ان کے نوشتہ حالات درج کرنے میں حرج نہ دیکھ کر انہیں بھی شائع کیا جا رہا ہے۔۱- مرزا خدا بخش صاحب حضرت نواب صاحب کو تحریر کرتے ہیں : بسم الله الرحمن الرحيم قادیان ۲۲ / مارچ ۹۳ء نحمده ونصلى على رسوله الكريم آقائے نامدار عالی وقار - السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔آج کل حضرت اقدس با وجود ضعف و بیماری کے جناب کے واسطے سخت مجاہدہ میں مصروف رہے۔کل شب کو ایک خواب اور کچھ تحریری طور پر لکھا ہوا پیش