اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 99 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 99

99 حضرت اقدس کی طرف سے نواب صاحب کو ملاقات کی بار بار ترغیب انبیاء کی صحبت تمام امراض روحانیہ کے دفعیہ کے لئے تریاق اور اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔صحبت صالحین والے اثرات بدرجہ اولئے ان کی صحبت سے مترتب ہوتے ہیں۔حضرت اقدس ہمیشہ احباب کو بار بار قادیان آنے اور زیادہ سے زیادہ قیام کرنے کی تلقین فرماتے تھے ان کی آمد سے آپ کے دل کی کلی کھل جاتی تھی اور ان کی واپسی کی جدائی آپ کے قلب رقیق کو مغموم کئے بغیر نہ رہ سکتی تھی۔چنانچہ آپ نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثانی رحمہ اللہ ) کے ختم قرآن کی آمین کے موقعہ پر بیرونی دوستوں کو بھی شرکت کے لئے مدعو کیا ان کی واپسی کا خیال کر کے آپ اپنے غم کا اظہار ان الفاظ میں فرماتے ہیں : مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يُرَانِي دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑیگا جو ملا ہے گر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے شکوہ کی کچھ نہیں جایہ گھر ہی بے بقا ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يُرَانِي نواب صاحب کو بھی حضرت اقدس بار بار ملاقات کی تلقین فرماتے تھے اور حضور کی تو جہات سے نواب صاحب کو قادیان بار بار آنے کا موقعہ ملا۔چنانچہ بیعت کے ذکر میں گذر چکا ہے کہ بیعت سے قبل ۱۵ جولائی ۱۸۹۰ء کو اور بعد بیعت ۱۴ فروری ۱۸۹۱ء کو آپ کے قادیان میں ہونے کا ذکر حضرت اقدس نے اپنے مکتوبات میں کیا ہے۔اسی تعلق میں حضور نے ۹ جنوری ۱۸۹۲ء کو آپ کو تحریر فرمایا: یہ عاجز انشاء اللہ العزیز ۲۰ جنوری ۱۸۹۲ء کو لاہور جائیگا اور ارادہ ہے کہ تین چار ہفتہ تک لاہور رہے۔اگر کوئی تقریب لاہور میں آپ کے آنے کی اس وقت پیدا ہو تو یقین کہ لاہور میں ملاقات ہو جائے گی۔پھر ۱۰ دسمبر ۱۸۹۲ء کو تحریر فرمایا: مکرر میں آپ کو کہتا ہوں کہ اگر آپ چالیس روز تک میری صحبت میں آجائیں تو مجھے یقین ہے کہ میرے قرب و جوار کا اثر آپ پر پڑے اور اگر چہ میں عہد کے طور پر نہیں کہ سکتا۔مگر میرا دل شہادت دیتا ہے کہ کچھ ظاہر ہوگا جو آپ کو کھینچ کر یقین کی طرف لے جائے گا۔