اصحاب احمد (جلد 2) — Page 76
76 ہے۔حدیبیہ کے قصہ میں ابن کثیر نے لکھا ہے کہ صحابہ کو ایسا ابتلاء پیش آیا کہ کادوان يُهْلَكُوا یعنی قریب تھا کہ اس ابتلاء سے ہلاک ہو جا ئیں یہی ہلاک“ کا لفظ جو حدیث میں آیا ہے۔آپ نے استعمال کیا تھا گویا اس بے قراری کے وقت میں حدیث کے تلفظ سے تو ارد ہو گیا ہے بشری کمزوری ہے جو عمر فاروق حدیبیہ جیسے قوی الایمان کو بھی حدیبیہ کے ابتلاء میں پیش آگئی تھی یہاں تک انہوں نے کہا کہ عملت لذالک اعمالاً یعنی یہ کلمہ شک کا جو میرے منہ سے نکلا تو میں نے اس قصور کا تدارک صدقہ خیرات اور عبادت اور دیگر اعمال صالحہ سے کیا۔مولوی محمد احسن صاحب ایک جامع رسالہ بنانے کی فکر میں ہیں شاید جلد شائع ہو اور مولوی صاحب یعنی مولوی حکیم نور دین صاحب آپ سے ناراض نہیں ہیں آپ سے محبت رکھتے ہیں۔شاید مولوی صاحب کو بشریت سے یہ افسوس ہوا ہوگا کہ آپ اول درجہ کے اور خاص جماعت میں سے تھے۔آپ کے نزدیک یہ خیال تک آنا نہیں چاہیئے تھا کیونکہ ہماری غائبانہ نگاہ میں آپ اول درجہ کے محبوں اور مخلصوں میں سے ہیں جن کی روز بروز تر قیامت کی امید ہے اور مولوی صاحب اپنے گھر کی بیماریوں کی وجہ سے بڑے ابتلاء میں رہے ہیں اور ان کے گھر کے لوگ مرمر کے بچے ہیں اس لئے وہ زیادہ خط و کتابت نہیں کر سکے اور اب وہ شاید ہمیں روز سے سندھ کے ملک میں ہیں اور پھر غالباً بہاولپور میں جائیں گے۔اور اخویم مولوی سید محمد احسن صاحب شاید ہفتہ عشرہ تک یہاں پر تشریف رکھتے ہیں اور اس عاجز کا نیک ظن اور دلی محبت آپ سے وہی ہے جو تھی اور امید رکھتا ہوں کہ دن بدن ترقی ہو۔والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ ( مکتوب غیر مطبوعہ ) اس مکتوب پر تاریخ درج نہیں حضرت مولوی نورالدین صاحب ( خلیفہ اول) نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو ایک مکتوب میں مئی ۱۸۹۶ء کو تحریر کیا کہ آتھم صاحب کی معیاد گذرنے پر میں بہاولپور میں تھا۔( آئینہ حق نما تصنیف مکرم عرفانی صاحب صفحہ ۹۵) اس پیش گوئی کے متعلق تذبذب والا خط نواب صاحب نے حضور کی خدمت میں سے ستمبر ۹۴ کو تحریر کیا تھا اور وہ سب سے پہلا خط تھا جو پیش گوئی کی میعاد گذرنے کے بعد نواب صاحب نے حضور کی خدمت میں تحریر کیا تھا اور اسی سے حضور کو ان کی اس پیش گوئی کے متعلق خیالات کا * یہ لفظ اصل مکتوب میں خاکسار سے پڑھا نہیں گیا انداز انگاہ سمجھا ہے۔