اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 77 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 77

77 عہد رفاقت کو حضرت اقدس مقدس سمجھتے تھے اور اس کی بہت رعایت رکھتے تھے۔چنانچہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن فرمایا میرا یہ مذہب ہے کہ جو شخص ایک دفعہ مجھ سے عہد دوستی باند ھے مجھے اس عہد کی اتنی رعایت ہوتی ہے کہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہوا اور کچھ ہی کیوں نہ ہو جاوے میں اس سے قطع نہیں کر سکتا ہاں اگر وہ خود قطع تعلق کر دے تو ہم لا چار ہیں ورنہ ہمارا مذ ہب تو یہ ہے کہ اگر ہمارے دوستوں سے کسی نے شراب پی ہواور بازار میں گرا ہوا ہو اور لوگوں کا ہجوم اُس کے گرد ہو تو بلا خوف لومتہ لائم کے اسے اٹھا کر لے آئیں گے۔فرمایا عہد دوستی بڑا قیمتی جوہر ہے۔اس کو آسانی سے ضائع کر دینا نہ چاہئے اور دوستوں سے کیسی ہی نا گوار بات پیش آوے اسے اغماض اور حمل کے محل میں اتارنا چاہیئے۔(سیرۃ مسیح موعود ) گو حضرت نواب صاحب کی طرف سے تعلقات میں اس کے بعد کچھ کمی واقع ہوئی لیکن حضرت اقدس رابطہ قائم رکھنے کی سعی بلیغ فرماتے رہے اور ان کو حسنات کی ترغیب دیتے رہے چنانچہ 19 دسمبر۱۸۹۴ء کو تحریر بقیہ حاشیہ :۔علم ہوا اور اس امر کا ذکر حضور نے اس کے جواب میں مکتوب نمبرے میں کیا ہے۔سو یہ غیر مطبوعہ مکتوب نمبرے کے بعد کا ہی ہو سکتا ہے ایک امر قابل حل ہے اور وہ یہ کہ حضرت مولوی صاحب ذکر کرتے ہیں کہ آتھم کی معیاد گذرنے پر میں بہاولپور میں تھا اور یہ تاریخ ۵ ستمبر ۱۸۹۴ تھی لیکن اس معیاد کے گذرنے کے بعد پہلے نواب صاحب نے سے ستمبر کو خط لکھا اور حضور نے اس کا جواب دیا اور پھر یہ مکتوب زیر بحث تحریر کیا لیکن اس میں حضور حضرت مولوی صاحب کی بابت رقم فرماتے ہیں کہ آب وہ شاید بیس روز سے سندھ کے ملک میں ہیں اور پھر غالبا بہاولپور میں جائیں گے۔گویا کہ ے ستمبر کے کم از کم چند روز بعد تک بھی ابھی حضرت مولوی صاحب بہاولپور نہ گئے تھے لیکن یہ اشکال یوں حل ہوتا ہے کہ حضور کو پہلے اطلاع ملی ہوگی کہ حضرت مولوی صاحب سندھ اور پھر بہاولپور جائیں گے بعد میں اطلاع نہیں آئی اس لئے سابقہ اطلاع کی بناء پر حضور نے یہ بات تحریر فرمائی اور حضور کے الفاظ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ حضور کو صرف پروگرام کا علم ہے اسی لئے حضور حضرت مولوی صاحب کے بیس روز سے سندھ میں ہونے کے متعلق بھی شاید “ کا لفظ استعمال کرتے ہیں جس سے ظاہر ہے کم از کم بیس روز سے حضور کو حضرت مولوی صاحب کے متعلق کوئی اطلاع نہ آئی تھی۔حضور کے الفاظ یہ ہیں : اب وہ شاید بیس روز سے سندھ کے ملک میں ہیں اور پھر غالبا بہاولپور جائیں گے۔“