اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 47 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 47

47 عنایت نامه متضمن به دخول در سلسلہ بیعت این عاجز موصول ہوا۔دعا ثبات و استقامت در حق آں عزیز کی گئی۔ثبتكم على التقوى والايمان وفتح لكم ابواب الخلوص والمحبة والعرفان امين ثم امين اشتہار شرائط بیعت بھیجا جاتا ہے۔جہاں تک وسعت و طاقت ہو اس پر پابند ہوں اور کمزوری کے دور کرنے کے لئے خدائے تعالیٰ سے مدد چاہتے رہیں اپنے رب کریم سے مناجات خلوت کی مداومت رکھیں اور ہمیشہ طلب قوت کرتے رہیں۔جس دن کا آنا نہایت ضروری اور جس گھڑی کا وارد ہو جانا نہایت یقینی ہے۔اس کو فراموش مت کرو اور ہر وقت ایسے رہو کہ گویا تیار ہو کیونکہ نہیں معلوم کہ وہ دن اور وہ گھڑی کس وقت آجائینگی۔سواپنے وقتوں کی محافظت کرو اور اس سے ڈرتے رہو جس کے تصرف میں سب کچھ ہے۔جو شخص قبل از بلا ڈرتا ہے اس کو امن دیا جائے گا مگر جو شخص بلا سے پہلے دنیا کی خوشیوں میں مست ہو رہا ہے وہ ہمیشہ کے لئے دُکھوں میں ڈالا جائے گا۔جو شخص اس قادر سے ڈرتا ہے۔وہ اس کے حکموں کی عزت کرتا ہے پس اس کو عزت دی جائے گی مگر جو شخص نہیں ڈرتا اس کو ذلیل کیا جائے گا۔دنیا بہت ہی تھوڑا وقت ہے بے وقوف ہے وہ شخص جو اس سے دل لگاوے اور نادان ہے وہ آدمی جو اس کے لئے اپنے رب کریم کو ناراض کرے۔سو ہوشیار ہو جاؤ تا غیب سے قوت پاؤ۔دُعا بہت کرتے رہو اور عاجزی کو اپنی خصلت بناؤ۔جو صرف رسم اور عادت کے طور پر زبان سے دعا کی جاتی ہے یہ کچھ بھی چیز نہیں اس میں ہرگز زندگی کی روح نہیں۔جب دعا کرو تو بجر صلوٰۃ فریضہ کے یہ دستور رکھو کہ اپنی خلوت میں جاؤ اور اپنی ہی زبان میں نہایت عاجزی کے ساتھ جیسے ایک ادنے سے ادنے' بندہ ہوتا ہے خدائے تعالیٰ کے حضور میں دُعا کرو کہ اے رب العالمین ! تیرے احسان کا میں شکر نہیں کر سکتا۔تو نہایت رحیم وکریم ہے اور تیرے بے نہایت مجھ پر احسان ہیں۔میرے گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔میرے دل میں اپنی خالص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تو راضی ہو جائے۔میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وارد ہو۔رحم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل و کرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔آمین ثم آمین۔آپ کی اس بیعت کی کسی کو خبر نہیں دی گئی۔اور بغیر آپ کی اجازت کے نہیں دی