اصحاب احمد (جلد 2) — Page 46
46 بیعت کا اخفاء بعض مشکلات کے پیش نظر نواب صاحب نے بیعت کو مخفی رکھنے کی درخواست کی بیعت مخفی رکھنے کے وجو ہات یہ تھے کہ آپ کی سب جائیداد کورٹ آف وارڈ کے سپرد تھی اور ابھی کورٹ نہیں گھلا تھا اس لئے صدہا مشکلات سد راہ تھیں لیکن حضور نے یہی ارشاد فرمایا کہ اس اخفاء کو اس وقت تک رکھیں جب تک کوئی اشد مصلحت در پیش ہو۔یہ زمانہ ایسا تھا کہ نوابوں اور رؤساء کو ارباب بست و کشاد کا چاپلوس اور ہر امر میں نبض شناس ہونا پڑتا تھا۔ورنہ صدہا الجھنیں پیدا ہونے کا قوی امکان رہتا تھا۔مزید برآں ابتدا میں حکومتِ وقت حضور کے دعادی پر حسن ظن نہ رکھتی تھی۔۱۸۹۱ء میں دعوئی مہدویت کی بناء پر حکومت گونا گوں شبہات وشکوک میں مبتلا ہوئی۔کیونکہ حکومت برطانیہ اس سے قبل سوڈانی مہدی کی وجہ سے کافی پریشانی اٹھا چکی تھی۔اور اس قسم کے نئے باب کے آغاز سے اعضاء حکومت بیحد خوف و ہراس محسوس کرتے تھے چونکہ اخفاء میں ایک قسم کا ضعف اور اظہار میں نصیحت للخلق ہوتی ہے اس لئے حضور نے تحریر فرمایا کہ گو آپ کی اجازت کے بغیر کسی کو بیعت کی خبر نہیں دی جائے گی لیکن مناسب ہے کہ اخفاء صرف اسی وقت تک رکھیں کہ جب تک کوئی اشد مصلحت در پیش ہو۔چنانچہ حضور تحریر فرماتے ہیں : بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم بخدمت اخویم عزیزی خانصاحب محمد علی خاں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بقیہ حاشیہ زمانے کی خلقت سمجھ سکتی ہے۔اب اگر میں اس دعوے میں راستی پر نہیں ہوں تو میری طرف سے عام منادی ہے کہ شیعوں کے بزرگ لوگ میرے اشتہار کے موافق مباہلہ اور مقابلہ کے لئے آویں۔بے شک اگر وہ آویں تو اللہ جلشانہ ان کی پردہ دری کرے گا۔اور اپنے بندہ کی تائید میں وہ انوار دکھلائے گا جو ہمیشہ اپنے خادم بندوں کے لئے دکھلاتا رہا ہے اس طریق سے آپ کرامات کو مشاہدہ کر سکتے ہیں۔اور آپ مقدرت رکھتے ہیں کہ کسی شیعہ کے مجتہد کو دو چار ہزار روپیہ دے کر میرے دروازے پر بٹھا دیں اور مقابلہ کرا دیں۔تاسیہ روی شود هر که در دنش باشد۔ے موافق شرائط مطبوعہ کے تحریری بیعت بھی ہوسکتی ہے اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے وقت صفا میسر آیا تو انشاء اللہ آپ سب صاحبان کے لئے دُعا کرونگا۔( والسلام علی من اتبع الہدی)۔خاکسار مرزا غلام احمد نوٹ : سب سے پہلے یہ مکتوب تشخیز الاذہان جلد نمبر ا تاس شائع ہوا اور وہیں سے یہاں نقل کیا گیا ہے۔گو بعد میں بدر جلد نمبر ۲۴ صفحه ۳ پر چه ۰۶-۶-۱۴ (۳) پرچه ۰۶-۶-۱۴ میں ایک حصہ شائع ہوا اور مکتوبات امد یہ جلد پنجم نمبر نیم نمبر۱۹۴/۱۰ پر درج ہے۔