اصحاب احمد (جلد 2) — Page 45
45 پٹھان شیروانی - رئیس مالیر کوٹلہ۔اصلی سکونت مالیر کوٹلہ ماتحت لدھیانہ اور پیشہ ریاست و جاگیرداری۔“ بقیہ حاشیہ:- توفیق سے کسی قدر قرائن سے بہ تکلف ارادت مندوں کا پیراہن پہن لیتا ہے پھر عنایت الہی سے بمشاہدہ برکات حق وہ تکلف طبیعت میں داخل ہو جاتا ہے۔صحابہ اور اہل بیت بھی آہستہ آہستہ مراتب عرفان کو پہنچے ہیں مگر روز ازل سے انہوں نے وہ خدمات اپنے ذمہ لیں جو بجز کامل ارادت کے ظہور میں نہیں آسکتیں اور پھر غائیت درجہ کی دشمنی پر۔اور جو مر دمقبول کی کرامات کا ظہور ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دشمن نادان ایک ولی اللہ سے عداوت شروع کرتا ہے اور ہر وقت قول یا فعل سے اس کے در پے آزار رہتا ہے تو آخر ایک دن غیرت الہی جوش مارتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔مَنْ عَادَ أَوْلِيَائِی فَقَدْ أَذَنْتُهُ بِالْحَرُب اس لئے یہ اصول نہایت صحیح ہے کہ جس کو کرامات کے دیکھنے کا شوق ہو وہ یا تو غایت درجہ کا دوست ہو جائے یا غایت درجہ کا دشمن۔کرامات بازیچہ اطفال نہیں ہے کہ خواہ نخواہ کھیل کی طرح دکھلائی جائیں۔اللہ جلشانہ اور اس کے فرمانبردار بندے غیر اللہ سے لا پرواہ ہیں اور خواہ نخواہ بازیگروں کی طرح کرشمہ نمائی ان کی عادت نہیں اگر چہ اولیاء اللہ پر کرامات الہی بارش کی طرح برستی ہیں لیکن غیر جب تک کہ پورا دوست یا پورا دشمن نہ ہوان انوار کے مشاہدہ سے بے نصیب رہتا ہے اس عاجز نے جو سولہ ہزار اشتہا ر کرامت نمائی کے لئے شائع کیا تھا اور شرط کی تھی کہ اگر کوئی مخالف منکرِ کرامات ہو تو ایک برس تک ہمارے دروازہ پر آکر بیٹھے اس کا ہرجہ دیا جائے گا۔اس اشتہار سے اللہ جلشانہ کی غرض یہی تھی کہ اس پابندی سے وہی شخص آکر ایک سال تک بیٹھے گا جو تمہارا دشمن ہو گا۔۔اس میں شک نہیں ہے اور خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ یہ عاجز نبیوں کی طرح اصلاح خلق اللہ کے لئے مامور ہوکر آیا ہے اور دل میں بہت خواہش ہے کہ وہ کرامات الہی جو یہ عاجز دیکھ رہا ہے لوگ بھی دیکھیں لیکن خدا تعالیٰ اپنے قانون قدیم سے تجاوز نہیں کرتا دوست کامل بنا چاہیے یا دشمن کامل تا آسمانی نشان ظاہر ہوں ہاں ایک طریق ہے اور اس کو آپ ہی بجالا سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ آپ کا اب تک عقیدہ یہ ہے کہ بارہ اماموں کو جس قدر فضیلت ہے وہ اصحاب کبار کو حاصل نہیں غائیت درجہ اصحاب کبار بادشاہوں کی طرح ہیں اور اس عاجز کا عقیدہ ہے کہ اصحاب کبار کے درجہ کے مقابل بارہ امام کچھ بھی چیز نہیں بلکہ اصحاب کہار کی محبت اُن کا فخر اور ان کے ترقی ایمان کا موجب ہے۔قرآن شریف میں بجز ابوبکر صدیق خاص طور پر کسی اہل بیت کا ذکر نہیں اور یہ بھی میرا عقیدہ ہے کہ صحابہ کے بعد جس قدر اہل بیت میں امام ہوئے ہیں وہ اپنے کمالات میں بے مثل نہیں بلکہ ایسے لوگ ہمیشہ ہوتے ہیں یہ میرے لئے شکر کا مقام ہے اور اس بات کا کہنا اپنے محل پر ہے کہ ان اماموں کے درجہ کے موافق ایک میں بھی ہوں اور اس سے زیادہ بھی مجھ پر انعامات الہی ہیں جس کو آپ سمجھ نہیں سکتے اور نہ اس