اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 44 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 44

44 اور تاریخ بیعت ۱۹ نومبر ۱۸۹۰ء مرقوم ہے بقیہ اندراج یوں ہے۔‘ خاں صاحب محمد علی خاں ولد نواب غلام محمد خاں بقیہ حاشیہ : - عوام جلدی سے کسی کو کافر اور کسی کو بے دین کہہ دیتے ہیں اور محققین اس کی ذرا پرواہ نہیں کرتے اگر ہم صدیقی اور فاروقی خدمات کو جو اپنی زندگی میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کیس لکھیں تو بلا شبہ وہ ایک دفتر میں بھی ختم نہیں ہوسکتیں۔لیکن اگر ہم امام حسین رضی اللہ عنہ کی خدمات کو لکھنا چاہیں تو کیا ان دو تین فقروں کے سوا کہ وہ انکار بیعت کی وجہ سے کربلا کے میدان میں رو کے گئے اور شہید کئے گئے۔کچھ اور بھی لکھ سکتے ہیں؟ بے شک یہ کام ایسا عمدہ ہوا کہ ایک فاسق دنیا دار کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت نہیں کی مگر اعتراض تو یہ ہے کہ وہ اپنے باپ بزرگوار کے قدم پر کیوں نہ چلے باپ نے تو بقول شیعوں کے تین فاسق آدمیوں کے ہاتھ پر جو بزعم ان کے مرتد سے بدتر تھے اور بقول ان کے صرف معمولی بادشاہوں میں سے تھے بیعت کر لی اور بیٹے نے تو اپنے باپ کے طریق سے اعراض کر کے ایک فاسق کی بیعت بھی نہیں کی اور انکا رہی میں جان دی۔بہر حال یہ اتفاقی حادثہ تھا جو امام صاحب کو پیش آ گیا اور بڑا بھاری ذخیرہ ان کے درجہ کا صرف یہی ایک حادثہ ہے جس کو محض غلو اور نا انصافی کی راہ سے آسمان تک کھینچا جاتا ہے اور وہ بزرگوارصحابہ جو رسولوں کی طرح دنیا میں کام کر گئے اور ہر میدان میں جان فدا کرنے کے لئے حاضر ہوئے ان سے بقول آپ کے لا پرواہی تو آپ کا طریق ہے یہ فیصلہ تو آسانی سے ہو سکتا ہے۔چونکہ دنیا دارالعمل ہے اور میدان حشر میں مراتب بلحاظ اعمال ملیں گے۔پس جس کے دل میں امام حسین و حسن کی وہ عظمت ہے کہ اب وہ دوسرے صحابہ سے لا پرواہ ہے اس کو چاہیے کہ ان کی خدمات شائستہ دین کی راہ میں پیش کرے اگر ان کی خدمات کا پلہ بھاری ہے تو بلاشبہ وہ دوسرے صحابہ سے افضل ٹھہر ینگے ورنہ ہم اس بات کے تو قائل نہیں ہو سکتے کہ خواہ نخواہ کسی کو افضل ٹھہرایا جاوے اور یہ خیال کرنا کہ اُن کی فضیلت یہی کافی ہے کہ وہ نواسے تھے یہ خیال کوئی عظمند نہیں کر سکتا۔کیونکہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ نواسہ ہونا کچھ بھی چیز نہیں ایک ذرا سا رشتہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی لڑکیاں تھیں اور نوا سے بھی کئی تھے کس کس کی ہم پرستش کریں یہ آیت کریمہ ہمارے لئے کافی ہے اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُم مجھے اللہ جل شانہ نے کھو دیا ہے کہ اس زمانہ کا انتقاصدیق اکبر ہے بعض لوگوں کو یہ بھی دھو کہ لگا ہوا ہے کہ وہ مناقب کسی بزرگ کے پیش کر دیا کرتے ہیں۔یعنی کہتے ہیں کہ مثلاً حضرت علی کے حق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے اور امام حسین کے حق میں یہ فرمایا ہے۔مگر یہ خیال کہ کیونکر اعلیٰ درجہ کی ارادت و محبت کسی کی نسبت پیدا کی جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ در حقیقت طبعی اور حقیقی طور پر اعلی درجہ کی ارادت اور فرمانبرداری بغیر پوری آزمائش کے نہیں ہو سکتی مگر طالب حق اللہ جل شانہ کی