اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 41 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 41

41 گونواب صاحب بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے غالباً ستمبر یا اکتوبر ۱۸۹۰ء میں بیعت حضرت کی کر لی۔“ تیسرے یہ عقیدہ بھی ضروری ہے کہ یہاں نواب صاحب کے اصل الفاظ درج کئے گئے ہیں جو الفضل مورخه ۳۸-۶-۱۴ مندرجہ ذیل الفاظ سے قدرے مختلف ہیں۔بقیہ حاشیہ - قرآن شریف اب تک ہر ایک قسم کے تصرف سے بکلی محفوظ ہے اور کوئی ایسا قرآن نہیں جو کوئی شخص اس کو غار میں لیکر اب تک چھپا بیٹھا ہے یہ ان لوگوں کا بہتان ہے جن کو خدا تعالیٰ کا خوف نہیں۔چوتھے یہ عقیدہ ضروری ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاروق عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب کے سب واقعی طور پر دین میں امین تھے۔ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اسلام کے آدم ثانی ہیں اور ایسا ہی حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما اگر دین میں بچے امین نہ ہوتے تو آج ہمارے لئے مشکل تھا کہ قرآن شریف کی کسی ایک آیت کو بھی منجانب اللہ بتا سکتے۔بلا شبہ یہ سچ بات ہے کہ ہم قرآن شریف سے اسی قدر محبت اور عشق پیدا کرینگے جس قدر ہمیں ان تینوں بزرگواروں کے امین ہونے پر ایمان ہوگا۔اگر ہم ذرا بھی کمالات ایمانیہ میں ان کو کم سمجھیں گے تو وہی کمی قرآن شریف کی عظمت کے بارہ میں ہمارے دلوں میں پیدا ہو جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ جس پیار سے اور محبت سے سنت جماعت قرآن شریف کو دیکھتے ہیں اور اس کو بصد محبت حفظ کر لیتے ہیں یہ بات شیعہ لوگوں میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔مثلاً مجھے تخمینا معلوم ہوا ہے کہ ہمارے ملک پنجاب میں ایک لاکھ سے زیادہ سنت جماعت میں سے قرآن شریف کا حافظ ہوگا مگر کیا کوئی اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ اسی ملک میں شیعہ لوگوں میں سے دس پندرہ بھی حافظ ہیں؟ بلکہ میرے خیال میں ایک حافظ بھی بمشکل ہے۔اس کا کیا سبب ہے؟ وہی ابوبکر وعمر وعثمان رضی اللہ عنہم۔پس اس سے معلوم ہوا کہ ان بزرگواروں کو بنظر تخفیف دیکھنے میں سرا سرایمان کا گھاتا ہے والــعـــاقــل تكفيه الاشارة۔پانچویں بیعت کے لئے یہ ضروری عقیدہ ہے کہ شرک سے بکلی پر ہیز کرے اگر یہ تمام عقائد کسی شیعہ میں پائے جاویں تو بلاشبہ اس کی حالت عمدہ ہے اور وہ اس لائق ہے کہ بیعت میں داخل ہو۔(۳) بیعت کے مقاصد میں سے ایک بھاری مقصد یہ ہے کہ انسان راہ راست پر آوے اور خدا تعالیٰ کے غضب سے ڈر کر ہر ایک طریق نا انصافی کو چھوڑ دیوے جو شخص عمداً نا انصافی پر جمار ہنا چاہتا ہے وہ دراصل حقیقت بیعت سے غافل ہے ہم اس مسافرخانہ میں تھوڑے عرصہ کے لئے آئے ہیں اور اس غرض سے بھیجے گئے ہیں کہ اپنے اخلاق اور عقائد اور اعمال کو درست کر کے اور حسب مرضیات الہی اپنے نفس کو بنا کر اس مولیٰ کریم کی رضا مندی حاصل کریں۔سو ہر ایک بات میں یہ دیکھ لینا چاہئیے کہ کیا ہمارے قول اور فعل ظلم اور زیادتی سے