اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 42 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 42

42 لیکن یادداشت کی بناء پر قریباً نصف صدی بعد کے بیان کی بجائے ابتدائی رجسٹر بیعت جس پر بیعت کے وقت یا بقیہ حاشیہ: - خالی ہیں ؟ یا ہم انصاف کا خون کر رہے ہیں۔جن بزرگ لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ضعف و ناتوانی اور تنہائی اور غربت کے ایام میں آنجناب کی رفاقت اختیار کی اس رفاقت اور اس ایمان کے پاس کے لئے بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا ئیں اپنی ریاستوں ملکیتوں سے بے دخل کئے گئے وطن سے نکالے گئے اور اعلاء کلمہ اسلام کے لئے صدہا مرتبہ اپنے تئیں معرض ہلاکت میں ڈالا ان کی شان کو جیسا کہ چاہئیے نہ سمجھنا سخت درجہ کی نا انصافی ہے در حقیقت اگر ہم انصاف سے دیکھیں اور عدالت کی نگاہ سے نظر کریں تو ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ لوگ اعلیٰ درجہ کے مقدس ہیں ہر ایک شخص کی فضلیت باعتبار اس کے حسن خدمات اور ذاتی لیاقتوں کے ہوا کرتی ہے۔سو جیسے صحابہ کرام کی فضلیت اس قاعدہ مستمرہ کی رو سے بپایہ ثبوت پہنچ گئی ہے کسی اور دوسرے کی فضیلت ہر گز ثابت نہیں ہو سکتی۔مثلاً امام حسین رضی اللہ عنہ نے جو بھاری نیکی کا کام دنیا میں آکر کیا وہ صرف اس قدر ہے کہ ایک نابکار دنیا دار کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت نہ کی اور اسی کشاکش کی وجہ سے شہید ہو گئے۔مگر یہ ایک شخصی ابتلا ء ہے جو انہیں پیش آ گیا۔اگر اس کو حضرت صدیق اکبر کی ان جانفشانیوں کے ساتھ جانچا جاوے جو انہوں نے تمام عمر محض اعلائے کلمہ اسلام کے لئے اکمل اور اتم طور پر پوری کی تھیں۔تو کیا ایک شخصی ابتلاء کو کچھ اُس سے نسبت ہو سکتی ہے۔اللہ جل شانہ کا کسی سے رشتہ نہیں ہے۔جو شخص اعلیٰ درجہ کا وفادار ہے اور خدمت گزار ہے وہی اس کا مقرب ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بیٹا زندہ نہیں رہا۔البتہ نوا اسے زندہ رہے ہیں۔جیسے حضرت فاطمہ کی اولاد یا دوسری بیبیوں کی اولاد۔سوخدا تعالیٰ کے نزدیک ان کے مدارج ان کے اعمال کے موافق ہیں۔خواہ نخواہ کا درجہ کسی کو دیا نہیں جاتا۔جو شخص محض خدا تعالیٰ کے لئے کسی سے محبت کرتا ہے اس کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ سے خوف کر کے دیکھے۔کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اس نے کیا کیا محمد ہ کام کیا ہے ناحق فضیلت ان کو نہ دیوے۔کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ محض رشتہ سے کیونکر فضیلت پیدا ہو جاتی ہے خاص کر کے ذرا سے رشتہ سے جو نواسہ ہوتا ہے۔کنعان حضرت نوح کا بیٹا تھا اور آذر حضرت ابرا ہیم کا باپ پس کیا یہ رشتہ انہیں کچھ کام آیا؟ پس یہ مجھ لینا چاہیئے کہ اہل بیت ہونا اپنے نفس میں کچھ بھی چیز نہیں ہے۔بے شک امام حسن و حسین ان لوگوں میں سے ہیں جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے ان کی راستبازی کی وجہ سے کامل کیا ہے نہ اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے ہیں۔کیونکہ نواسے تو اور بھی تھے۔نواسہ ہونا خدا تعالیٰ کے نزدیک یا خلقت کے نزدیک کیا حقیقت رکھتا ہے۔لیکن بلاشبہ کمالات صدیقی و فاروقی کے مقابل پر حسینی کمالات مستزل ہیں ان بزرگواروں نے اسلام پر بڑا احسان کیا اور اسلام کی شوکت کو دنیا میں قائم کیا۔اور وہ جانفشانی