اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 688 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 688

688 مکرم میاں عبدالرحیم خان صاحب کے شدید بیمار ہونے پر جو حضور نے شفاعت کی اور معجزہ شفایابی ظاہر ہوا اس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔مکرم میاں محمد عبد الرحمن خان صاحب لاہور میں شدید بیمار ہو گئے تو حضور بہت فکر مند ہوئے اور متعدد خطوط میں تشویش کا اظہار کیا ۲۵ / مارچ ۱۹۰۴ء کو تحریر فرمایا: اس وقت تار کے نہ پہنچنے سے بہت تفکر اور تردد ہوا۔خدا تعالیٰ خاص فضل کر کے شفا بخشے۔اس جگہ دور بیٹھے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اصل حالت کیا ہے۔اگر کوئی صورت ایسی ہو کہ عبد الرحمن کو ساتھ لے کر قادیان آجاویں تو رو برود یکھنے سے دعا کے لئے ایک خاص جوش پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ شفا بخشے اور وہ آپ کے دل کا درددور کرے۔“ ۵۰۴ ایک مکتوب میں فرماتے ہیں: ”ایسے وقت آپ کا عنایت نامہ مجھ کو ملا کہ میں دعا میں مشغول ہوں اور امیدوار رحمت ایزدی۔حالات کے معلوم کرنے سے میری بھی یہی رائے ہے کہ ایسی حالت میں قادیان میں لانا مناسب نہیں۔امید کہ انشاء اللہ تعالیٰ جلد وہ دن آئے گا کہ بآسانی سواری کے لائق ہو جائیں گے۔۔۔میں خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے بہت توجہ سے دعا کرتا رہوں گا۔دو خاص وقت ہیں (۱) وقت تہجد (۲) اشراق۔ماسوا اس کے پنج وقت نماز میں انشاء اللہ دعا کروں گا۔اور جہاں تک ہو سکے آپ تازہ حالات سے ہر روز مجھے اطلاع دیتے رہیں۔کیونکہ اگر چہ اسباب کی رعایت بھی ضروری ہے مگر حق بات یہ ہے کہ اسباب بھی تب ہی درست اور طبیب کو بھی تب ہی سیدھی راہ ملتی ہے جبکہ خدائے تعالیٰ کا ارادہ ہو اور انسان کے لئے بجز دعا کے کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جو خدا تعالیٰ کے ارادہ کو انسان کی مرضی کے موافق کر دے۔ایک دعا ہی ہے کہ اگر کمال تک پہنچ جائے تو ایک مردہ کی طرح انسان اس سے زندہ ہو سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ دعا کمال کو پہنچ جائے۔وہ نہایت عمدہ چیز ہے۔یہی کیمیا ہے۔اگر اپنے تمام شرائط کے ساتھ متحقق ہو جائے۔خدا تعالیٰ کا جن لوگوں پر فرض ہے اور جو لوگ اصطفاء اور اجتباء کے درجہ تک پہنچتے ہیں۔اس سے بڑھ کر کوئی نعمت ان کو نہیں دی گئی کہ اکثر دعائیں ان کی قبول ہو جائیں۔گومشیت الہی نے یہ قانون رکھا ہے کہ بعض دعائیں مقبولوں