اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 682 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 682

682 باز اور بے وفا نہیں ہیں۔“ MAY -۴- حضور ۲۵ / مارچ ۱۸۹۳ء کو تحریر فرماتے ہیں : آپ کے دو عنایت نامے پہنچے یہ عاجز باعث شدت کم فرصتی و علالت طبع جواب نہیں لکھ سکا اور نیز یہ بھی انتظار رہی کہ کوئی بشارت کھلے کھلے طور پر پالینے سے خطا لکھوں۔چنانچہ اب تک آپ کے لئے جہاں تک انسانی کوشش سے ہوسکتا ہے توجہ کی گئی اور بہت سا حصہ وقت کا اسی کام کے لئے لگایا۔سوان درمیانی امور کے بارہ میں اخویم مرزا خدا بخش صاحب اطلاع دیتے رہے ہوں گے اور آخر جو بار بار کی توجہ کے بعد الہام ہوا وہ یہ تھا اِنّ الله على كل شئ قدير - قل قومولِله قانتين - یعنی اللہ جل شانہ ہر یک چیز پر قادر ہے کوئی بات اس کے آگے ان ہونی نہیں انہیں کہہ دو جائیں اور یہ الہام ابھی ہوا ہے۔اس الہام میں جو میرے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے فعلی طور پر کئے وہ یہی ہیں کہ ارادہ الہی آپ کی خیر اور بہتری کے لئے مقدر ہے۔لیکن وہ اس بات سے وابستہ ہے کہ اسلامی صلاحیت اور التزام صوم وصلوٰۃ و تقوی وطہارت میں ترقی کریں بلکہ ان شرائط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امرمخفی نہایت ہی بابرکت امر ہے جس کے لئے یہ شرائط رکھے گئے ہیں۔مجھے تو اس بات کے معلوم کرنے سے بہت خوشی ہوئی ہے کیونکہ اس میں آپ کی کامیابیوں کے لئے کچھ نیم رضا سمجھی جاتی ہے۔اور یہ امر تجربہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ اس قسم کے الہامات اس شخص کے حق میں ہوتے ہیں جس کے لئے اللہ تعالیٰ ارادہ خیر فرماتا ہے۔اس عالم سفلی میں اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی کسی معزز عہدہ کا خواہاں ہو۔۔۔۔وقت اس کو اس طور سے تسلی دے کہ تم امتحان دو ہم تمہارا کام کر دیں گے۔سوخدا تعالیٰ آپ میں اور آپ کے دوسرے اقارب میں ایک صریح امتیاز دیکھنا چاہتا ہے اور چونکہ آپ کی طبیعت بفضلہ تعالیٰ نیک کاموں کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔اس لئے یہی امید کی جاتی ہے کہ آپ اپنے مولیٰ کریم کو خوش کریں گے۔میں نے مرزا خدا بخش صاحب کو رمضان کے دنوں تک اس لئے ٹھہرا لیا ہے کہ تا پھر بھی ان مبارک دنوں میں وقتا فوقتا آپ کے آگے اصل خط بوجہ کا غذ پھٹ جانے کے الفاظ نہیں رہے۔