اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 622 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 622

622 وفات کی خبر ملتے ہی قادیان کے مرد اور خواتین حضرت نواب صاحب کی کوٹھی پر پہنچ گئے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بھی تشریف لے گئے اور رات کے گیارہ بجے تک وہیں رہے۔آج صبح سے احباب جماعت کے علاوہ سکھ اور ہند و اصحاب بھی بکثرت آتے رہے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ بھی بارہ بجے کے قریب تشریف لے گئے چونکہ دو پہر کی گاڑی سے بیرونجات سے بعض اعزہ کے آنے کی امید تھی اس لئے جنازہ کوٹھی سے لے جانے کے لئے تین بجے بعد دو پہر کا وقت مقرر تھا۔اس اثناء میں کوٹھی کے اندر ہزاروں خواتین نے مرحوم کی آخری زیارت کی۔دو پہر کی گاڑی سے مرحوم کے بعض عزیز جن میں نواب زادہ خورشید علی خاں صاحب خلف سر ذوالفقار علی خاں صاحب۔سر موصوف کی بیگم صاحبہ اور اس خاندان کی بعض دیگر خواتین تشریف لائیں۔نواب زادہ احسان علی خاں صاحب کئی روز پیشتر سے ہی جب سے کہ حضرت نواب صاحب کی طبیعت زیادہ کمزور ہوگئی تھی یہاں تشریف رکھتے تھے حضرت نواب صاحب کے فرزند اکبر نواب زادہ عبدالرحمن خاں صاحب بھی کئی روز سے یہاں تشریف فرما تھے۔نواب سر ذوالفقار علی خاں صاحب کی صاحبزادی بیگم اعزاز رسول صاحب آف مندیلہ بھی کئی روز سے یہیں تھیں۔ان کے علاوہ لا ہور امرتسر۔کپورتھلہ۔جالندھر وغیرہ سے بعض احمدی احباب اور صاحبزادگان خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے پہنچ گئے تین بجے جنازہ باہر لایا گیا اس وقت تک احمدی احباب کی کثیر تعداد جمع ہو چکی تھی جنازہ کوٹھی کی بیرونی ڈیوڑھی میں رکھا گیا جہاں ہزاروں احباب نے ایک ترتیب کے ساتھ حضرت نواب صاحب کی آخری زیارت کی اس کے بعد چار پائی کے ساتھ لمبے بانس باندھ دیئے گئے تا کندھا دینے والوں کو سہولت ہو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے جنازہ کو کندھا دیا اور جنازہ گاہ تک ہزاروں افراد نے کندھا دینے یا درد بھری دُعاؤں کے ساتھ ہاتھ لگانے کا ثواب حاصل کیا اور جنازہ دار الفضل اور دارالعلوم کی درمیانی سڑک پر سے شہر اور پھر وہاں سے باغ متصل مقبرہ بہشتی میں لے جایا گیا۔جہاں جانب غرب نماز جنازہ پڑھنے کا انتظام کیا گیا تھا اور صفیں سیدھی باندھنے کے لئے زمین پر سفیدی کے ساتھ خط کھینچ دیئے گئے تھے احمدی احباب کی کثیر تعداد جنازہ میں شریک ہونے کے لئے جمع ہو چکی تھی اندازہ ہے کہ قریباً تین ہزار افراد شریک ہوئے بہت سی خواتین بھی خود بخود پہنچ گئی تھیں وہ اس تعداد میں شامل نہیں۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور تمام مجمع نے رقت اور خشیت کے ساتھ حضرت نواب صاحب کے لئے دُعائیں کیں۔نماز جنازہ کے بعد پھر حضور ایدہ اللہ نے چار پائی کو کندھا دیا اور جنازہ اس خاص احاطہ میں لے جایا گیا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مزار ہے قبر حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم و مغفور کے بائیں جانب کھو دی گئی میت کو لحد میں اتارنے کے لئے